بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں خواتین سب سے زیادہ مظالم کا شکار: مہاراشٹر کانگریس

این سی آر بی 2020 کی رپورٹ کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ فڑنویس کے دور میں خواتین کے خلاف سب سے زیادہ جرائم ہوئے۔

سچن ساونت، تصویر آئی اے این ایس
سچن ساونت، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: مہاراشٹر کانگریس نے بدھ کے روز کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کی حکومت والی ریاستوں میں خواتین کے خلاف مظالم سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی کانگریس پارٹی نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی اس تجویز کی تائید کی کہ اس مسئلہ پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا چار روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا جانا چاہیے۔

این سی آر بی 2020 کی رپورٹ کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے ریاستی ترجمان اور جنرل سکریٹری سچن ساونت نے کہا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے دور میں خواتین کے خلاف سب سے زیادہ جرائم ہوئے، جبکہ وزارت داخلہ کا قلمدان بھی انہیں کے پاس تھا، لیکن مہاراشٹر وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) حکومت کے دوران خواتین کے خلاف مظالم میں کمی واقع ہوئی۔


سچن ساوت نے یہ تبصرہ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کی جانب سے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو ارسال کئے گئے اس مکتوب کے بعد کیا ہے، جس میں کوشیاری نے نے کہا تھا کہ وہ ساکی ناکہ میں ایک 32 سالہ خاتون کے بہیمانہ عصمت دری اور قتل کے تناظر میں نظم و نسق اور خواتین کی سلامتی کے مسئلہ پر بحث کے لیے مہاراشٹر اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے۔

کوشیاری کے اس مکتوب کے جواب میں ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ حزب اختلاف کی جانب سے کئے گئے مطالبہ کو ایک گورنر کی جانب سے حمایت دینا جمہوریت کے لئے مہلک ثابت ہوگا۔ ٹھاکرے نے مزید کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد قومی مسئلہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کوشیاری وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے سامنے پارلیمنٹ کا چار روزہ خصوصی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ رکھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔