پنڈت نہرو کی برسی پر خاص: گیان واپی کے بہانے سچ پر پردہ ڈالنے کی غلط کوشش

بی جے پی-آر ایس ایس فیملی کی دقت یہ ہے کہ ان کی کوئی سنہری تاریخ نہیں ہے، اس لیے وہ جنگ آزادی میں شامل رہے ان سبھی بڑے لیڈروں کا نام لیتے رہتے ہیں جو کانگریس سے منسلک رہے۔

کاشی وشوناتھ / آئی اے این ایس
کاشی وشوناتھ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی-آر ایس ایس فیملی کی دقت یہ ہے کہ ان کی کوئی سنہری تاریخ نہیں ہے، اس لیے وہ جنگ آزادی میں شامل رہے ان سبھی بڑے لیڈروں کا نام لیتے رہتے ہیں جو کانگریس سے منسلک رہے۔ لیکن ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کا تو جیسے خوف ان پر طاری رہتا ہے۔ حال کےس الوں میں اس کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال بھی اس طرح کیا جاتا ہے، جیسے اینکر تاریخ کا اسکالر بھی ہو۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی کس طرح کا دستاویز پیش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ دراصل وزیر اعظم نریندر مودی جانتے ہیں کہ نہرو جی کے قد کے سامنے وہ بونے ہیں۔ اس لیے نہرو جی کو لے کر نصف سچ بلکہ جھوٹ کی بنیاد پر وہ اپنی شخصیت ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن تاریکی پھیلانے کی کوشش ایک چراغ ہی ناکام کر دیتا ہے۔

ان دنوں ایک ویڈیو سوشل میڈیا میں فارورڈ کی جا رہی ہے جس میں نامعلوم شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ 1955 میں جب سعودی حاکم ہندوستان آمد پر وارانسی گئے تھے تو پنڈت نہرو کی ہدایت پر وہاں کے سبھی مندروں پر پردہ ڈال دیا گیا تھا اور سرکاری عمارتوں کی دیواروں پر عربی میں ’کلمہ طیبہ‘ (لا الٰہ الاللہ محمد رسول اللہ) لکھوا دیا گیا تھا۔ یہ ویڈیو ’نیشنل وِتھ نمو‘ نامی کسی گروپ کا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نریندر مودی حامی افراد کے ذریعہ تیار کی گئی ویڈیو ہے۔ اس ویڈیو کو جاری کرنے کی ’ٹائمنگ‘ پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ وارانسی کے گیان واپی مسجد کا معاملہ ان دنوں روزانہ اخبارات کی سرخیاں بن رہی ہیں۔ اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔


جیسا کہ اس قسم کی آڈیو-ویڈیو میں ہوتا ہے، اس میں بھی کوئی حوالہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔ اس میں صرف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ ویڈیو غلط ہے کیونکہ:

  1. وارانسی کے اہم مندر، خاص طور سے کاشی وشوناتھ مندر جس کا اس ویڈیو میں ذکر بھی کیا گیا ہے، اتنا بڑا تھا کہ اس پر پردہ ڈالا جانا ممکن ہی نہیں تھا۔

  2. اس وقت بھی اس مندر میں دن بھر لوگوں کا تانتا لگا رہتا تھا اور وہاں پجاری بھی رہتے تھے اور وہ حکومت کو ایسا کچھ کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔

  3. ایسا کچھ ہوتا تو آر ایس ایس اور جن سنگھ کے لوگ تو چھوڑیے، وہاں رہنے والے سینکڑوں سادھو حکومت کی ناک میں دم کر دیتے۔

  4. اس دورہ کی رپورٹنگ کر رہے پریس بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں مندروں کو اس طرح چھپائے جانے کی بات سرخیاں بنتیں۔ اس وقت کے کسی اخبار میں اس طرح مندروں پر پردہ ڈالنے کا کوئی تذکرہ کہیں نہیں ملتا ہے۔

  5. اگر نہرو سعودی حکمراں کو مندر نہیں دکھانا چاہتے تو وہ ان کے دورے میں وارانسی کو شامل کرنے سے بہ آسانی دور رہ سکتے تھے۔

  6. نہرو کی خواہش یقینی طور پر کسی سعودی حکومت کو ہندوستانی وراثت دکھانے کی ہی رہی ہوگی، تب ہی وہ انھیں لے کر وارانسی گئے تھے۔ آخر مارک ٹوین اور الڈس ہکسلے سمیت ہزاروں بیرون ملکی سیاح وارانسی جاتے رہتے تھے اور اب بھی جاتاے ہیں۔

اس قسم کی فرضی ویڈیوز کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مودی حامیوں کے پاس اس واقعہ کا کوئی جواب نہیں ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فروری 2020 میں احمد آبادہ کا دورہ کیا تھا اور وہاں غریب بستیوں کے آگے دیوار کھڑی کر دی گئی تھی تاکہ انھیں شہر کی حقیقی حالت دکھائی نہ دے۔ ویسے سچائی کو چھپانے کی روایت تو دراصل بی جے پی کی ہی ایجاد کردہ ہے اور اتفاق سے وہ بھی بنارس میں ہی۔ احمد آباد کی باری تو بعد میں آئی۔


2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد مودی جب بھی کاشی آتے ہیں سب سے پہلے تو گنگا میں گرنے والا اسّی نالہ چھپا دیا جاتا ہے کیونکہ انھیں گھاٹ جانے کا شوق ہے۔ مودی جی کے راستے میں آنے والی ورونا آج بھی چھپا دی جاتی ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے اکھلیش یادو نے جس ورونا ریور فرنٹ کو بنانے کی شروعات کی تھی، اسے نصف راستے میں روک دیا گیا اور نتیجہ یہ ہے کہ اس حصے میں ورونا اب خوب بجبجاتی ہے۔

کاشی میں گنگا میں گرنے والے وہ سارے نالے ان دنوں چھپا دیے گئے تھے جب ان کے جاپانی دوست شنجو آبے وارانسی آئے تھے اور مودی نے انھیں اپنے ساتھ کشتی پر سیر کرایا تھا۔ بی جے پی کا آئی ٹی سیل شاید اسی فارمولے کو 1955 میں فٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں کامیابی نہیں مل پا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔