جدید ہندوستان کا معمار ’پنڈت جواہر لال نہرو‘... یومِ پیدائش پر خصوصی پیشکش

جب کوئی پنڈت جواہر لال نہرو کا خاکہ لکھنا شروع کرتا ہے تو اس کی ملاقات سچے محب وطن، ممتاز مورخ، عوام کے دلوں پر حکومت کرنے والے رہنما اور ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب دیکھنے والے عظیم قائد سے ہوتی ہے۔

آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو / Getty Images
آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو / Getty Images
user

آفتاب احمد منیری

جن مجاہدین آزادی نے ملک کی بقا اور سالمیت نیز ہندوستان کی تعمیر نو کو اپنی زندگی کا مقصد اولین بنایا اور ہماری قدیم مشترکہ تہذیب کو استحکام عطا کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے، ان میں ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا نام مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

جدوجہد آزادی میں قائدانہ کردار ادا کرنے اور اسے ایک منطقی انجام تک پہنچانے والے پنڈت نہرو کو آج کے سیاسی ماحول میں یاد کرنا اس لیے بھی بہت ضروری ہے کہ انھوں نے گاندھی اور مولانا آزاد کے ساتھ مل کر جس جمہوری اور انسانی قدروں کی بنیاد رکھی تھی اور کثرت میں وحدت کے مہتم بالشان تصور کو زندگی عطا کی تھی، آج وہ انسانی اور جمہوری قدریں پامال ہو رہی ہیں اور ہماری متحدہ قومیت کا وہ حسین تصور ماند پڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ چنانچہ ہر محب وطن شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ آزاد ہندوستان کے اس معمار کی داستان حیات کا مطالعہ کرے جو انگریزوں کی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی مکروہ سیاست کے سامنے آہنی چٹان بن کر کھڑا ہوا، جس نے نفرتوں کی فضاؤں میں محبت کے پھول کھلائے اور اپنی پیہم کوششوں کے طفیل ایک تکثیر پند سماج میں اخوت و محبت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا ہموار کی۔


پنڈت نہرو کی عہد ساز شخصیت جس عظیم ہندوستان کی نمائندگی کرتی ہے اس کی ترجمانی کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:

چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا

نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا

تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا

جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا

میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

جب کوئی مصنف پنڈت جواہر لال نہرو کا خاکہ لکھنا شروع کرتا ہے تو اس کی ملاقات ایک سچے محب وطن، ممتاز مورخ، عوام کے دلوں پر حکومت کرنے والے رہنما اور آزاد و ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب دیکھنے والے ایک عظیم قائد سے ہوتی ہے۔ نہرو جی نے اپنا سیاسی سفر سنہ 1912 میں شروع کیا جب انھوں نے ایک مندوب کے طور پر بانکی پور کانگریس میں شرکت کی۔ 1919 میں اپنے آبائی وطن الٰہ آباد میں ہوم رول لیگ کے سکریٹری بنائے گئے۔ اس سے قبل 1916 میں پہلی بار ان کی ملاقات گاندھی جی سے ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ ملاقات دایٔ رفاقت میں تبدیل ہو گئی۔


ہندوستان میں آئینی اصلاحات کے سلسلے میں سنہ 1928 میں نہرو رپورٹ منظر عام پر آئی۔ اس رپورٹ پر دستخط کرنے والوں میں جواہر لال نہرو جی کا نام بھی شامل تھا۔ یہ رپورٹ ان کے والد موتی لال نہرو کے نام سے موسوم تھی۔ ہماری قومی تحریک آزادی سے متعلق بے شمار واقعات ایسے ہیں جہاں پنڈت نہرو کے قدموں کے نشان نظر آتے ہیں۔ مثلاً 1929 میں راوی کے کنارے کل ہند کانگریس کمیٹی کے اجلاس کے دوران مہاتما گاندھی نے جواہر لال نہرو کو کانگریس کا صدر نامزد کیا۔ اس سیشن کے اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے ہندوستان کو آزدای دلانے کے عزم کا اظہار کیا اور اس مقصد عظیم کو پانے کے لیے 26 جنوری کی تاریخ بھی متعین کی۔ جس کی پاداش میں انھیں دیگر قومی لیڈران کے ہمراہ متعدد دفعہ گرفتار کر کے قید زنداں میں ڈالا گیا۔

ایک طویل جدوجہد اور عظیم قربانیوں کے بعد 15 اگست 1947 کو آزادی کی وہ صبح طلوع ہوئی جس کا صدیوں سے انتظار تھا۔ اس تاریخی صبح سے ٹھیک پہلے نصف شب کے وقت ماؤنٹ بیٹن پلان کے تحت ہندوستان کی آزادی کا اعلان کیا گیا۔ قوم کے نام نے پہلے خطاب میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے یہ تاریخی الفاظ کہے:


’’رات کے اس وقت جب کہ آدھی دنیا سو رہی ہے، بھارت میں ایک نئی زندگی اور آزادی کی ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔ وہ وقت آ گیا ہے جو تاریخ میں بہت کم آتا ہے، جب ہم قدیم زمانے سے نئے زمانے میں داخل ہو رہے ہیں، جب ایک قوم کی روح صدیوں تک دبائے جانے کے بعد آزاد ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم ملک کی خدمت کریں گے، اس کے عوام کی خدمت کریں گے اور پوری انسانیت کی خدمت کریں گے۔‘‘

صبح آزادی کے موقع پر پنڈت نہرو کی زبان سے ادا ہوئے یہ الفاظ محض رسمی نہیں تھے۔ ان کے پیچھے ایک مدبر قائد کا عزم پوشیدہ تھا۔ مولانا آزاد، سردار پٹیل، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور رفیع احمد قدوائی جیسے اعلیٰ صفات دانشوران قوم پر مشتمل نہرو کابینہ نے نہایت مختصر مدت میں ہندوستان کو مختلف شعبۂ حیات میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر کے پنڈت نہرو کے عزم کو یقین میں بدل ڈالا۔ معروف صحافی کیول ورما کے لفظوں میں...


’’جب پچاس کی دہائی میں ہم صحافت کی دنیا میں آئے، تب ہندوستان کی تعمیر ہو رہی تھی۔ اس کے نئے نئے مندر بن رہے تھے۔ مثلاً بھاکھڑا ننگل ڈیم، ریہنڈ ڈیم، بھِلائی، راؤرکیلا، بوکارو اسٹیل پلانٹ وغیرہ اور ہم ان کی تعمیر اور سنگ بنیاد رکھے جانے کی خبریں نشر کرتے تھے۔‘‘

نہرو جی کا دوسرا عظیم کارنامہ ملک میں جمہوریت، سیکولرزم اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ 1952 میں نہرو جی کی قابل فخر قیادت میں ملک کے پہلے عام انتخابات ہوئے، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ یہ ایک صحت مند جمہوریت کی عمدہ مثال ہے جس کی بنیاد آنجہانی وزیر اعظم نے رکھی تھی۔


پنڈت نہرو بذات خود انسانی شرافت اور قوت برداشت کی زندہ علامت تھے۔ ان کے دور حکومت میں ایک بار کسی علاقے میں قحط پڑا جس کے سبب متعدد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ نہرو جی اس علاقہ کا جائزہ لینے نکلے۔ ایک مقام پر عوامی بھیڑ نے ان کی کار کا راستہ روک لیا۔ نہرو جی کار سے اترے۔ اتنے میں ایک شخص غصے کے عالم میں آگے بڑھا اور ترش لہجے میں بولا ’’یہ بتاؤ ہمیں اس آزادی سے کیا ملا؟‘‘ نہرو جی نے نہایت سنجیدگی اور متانت سے جواب دیا ’’اس آزادی کی بدولت ہی تم ملک کے وزیر اعظم کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے باز پرس کر رہے ہو۔‘‘ یہ منطقی جواب سن کر وہ شخص شرمندہ ہوا اور نہرو جی کے راستے سے ہٹ گیا۔

یہ واقعہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد معاشی بحران کا شکار ہو چکے تقسیم شدہ ہندوستان کی تعمیر نو کا کام کسی عظیم چیلنج سے کم نہیں تھا۔ لیکن جواہر لال نہرو اپنی قائدانہ بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد ہی ملک کو معاشی بحران سے نکال لائے۔


آج کے پر آشوب سیاسی حالات ہمیں پنڈت نہرو جیسے مثالی حکمراں اور سیکولر لیڈر کی کمی کا شدت سے احساس کرا رہے ہیں۔ ایسے وقت ہم نہرو جی کے افکار و نظریات سے روشنی حاصل کر کے ہی جمہوری قدروں کی بازیافت کر سکتے ہیں۔

(مضمون نگار سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں استاذ ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔