آزادیٔ ہند کا عظیم قائد ’مولانا ابوالکلام آزاد‘... آفتاب احمد منیری

مولانا آزاد نے جدوجہد آزادی سے لیکر قومی وملی رہنمائی کے شعبے میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ علم وادب کے آسمان پر وہ ایک روشن ستارے کی مانند چمکے۔ ان کی لافانی تحریروں نے ایک عالم کو متاثر کیا۔

مولانا ابو الکام آزاد
مولانا ابو الکام آزاد
user

آفتاب احمد منیری

جوتیرے جلووں سے ہو منور نہ اس آئینے میں بال آئے

مٹے خیالِ گناہ دل سے جو دل میں ترا خیال آئے

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کا شمارہ ان عظیم مجاہدین آزادی میں ہوتا ہے جنھوں نے صرف ہماری قومی تحریک آزادی کی قیادت کے فرائض انجام دیئے ،بلکہ اپنی علمی کاوشوں کے طفیل ہر چہار جانب علم کے روشن مینار بھی قائم کئے۔ مولانا آزاد کو خدانے غیر معمول صلاحیتیں عطا کی تھیں۔ علم وعمل کے اس عظیم شہسوار نے جس میدان میں بھی قدم رکھا کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔ جہاں ایک طرف انھوں نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ مل کر ہماری متحدہ قومیت کی بنیادیں مستحکم کیں۔ وہیں دوسری جانب قرآن کی تفسیر لکھ کر قوم مشرق کو زندگی کے آداب بھی سکھائے۔ اپنی اس ہمہ جہت شخصیت کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے جو الفاظ کہے تھے وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں:

’’میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اسلام کی تیرہ سو برسوں کی شاندار روایتیں میرے حصے میں آئی ہیں۔ میں تیار نہیں کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں۔ بحیثیت مسلمان میں مذہبی دائرے میں، میں اپنی ایک خاص ہستی رکھتا ہوں اور میں برداشت نہیں کرسکتا کہ کوئی اس میں مداخلت کرے۔ لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ ایک اور احساس بھی رکھتا ہوں، جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا ہے، اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی۔ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے۔ میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں اور ہندوستان کی ایک اور ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں، میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا اہم عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے‘‘۔


مولانا آزاد کی قومی وملی خدمات کا دائرہ بے انتہا وسیع ہے، جدوجہد آزادی سے لیکر قومی وملی رہنمائی کے شعبے میں انھوں نے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ علم وادب کے آسمان پر وہ ایک روشن ستارے کی مانند چمکے۔ ان کی لافانی تحریروں نے ایک عالم کو متاثر کیا۔ ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ جیسے اخبارات سے اردو میں انقلابی صحافت کا آغاز کرنے والے مولانا آزاد علم ریاضی، تاریخ عالم، فلسفہ اور سائنس سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ مولانا کے منفرد اسلوب اور بلند پایہ خطابت کی ایک دنیا معترف تھی۔ ان کی گل انشائی گفتار کا لوہا مانتے ہوئے نیاز فتح پوری نے کہا تھا کہ ’’اگر کوئی مجھے آزاد کی زبان میں گالی دے تو میں کہوں گا اور۔‘‘

ہندوستان کی مشہور زمانہ خلافت تحریک کو مقبول عام کرنے میں مولونا کی کوششوں کا غیر معمولی کردار رہا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ جب علمی برادران نے ترکی کی اسلامی خلافت کی بازیابی کےلئے آواز بلند کی تو سب سے پہلے مولانا نے اس آواز پر لبیک کہا اور فروری 1920 کو کلکتہ کے ٹاؤن ہال میں آل انڈیا خلافت کمیٹی کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ’’اب انگریزوں سے ہمارا کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا‘‘ بعد میں گاندھی جی نے بھی خلافت تحریک کے ساتھ اظہار یکجتہی کرتے ہوئے مولانا کے اعلان برائے عدم تعاون کی مکمل حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں اس خلافت تحریک نے جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے قومی تعلیمی ادارہ کو جنم دیا، جس کے بانیوں میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد بھی شامل تھے۔ آپ اپنی قائدانہ صلاحتیوں کی بدولت متعدد دفعہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر بھی بنائے گئے۔


15 اگست 1947 کو جب ہند کے افق پر آزادی کا سورج طلوع ہوا تو مولانا آزاد کے عبقری صلاحتیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں آزاد ہندوستان کا پہلا وزیر تعلیم بنایا گیا۔ اس باوقار منصب پر فائز ہو کر مولانا نے اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں ملک کو خود کفیل بنانے کے لئے جو کارنامے انجام دیئے انھیں ہندوستانی عوام تاقیامت فراموش نہیں کرپائے گی۔ وطنِ عزیز میں اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کو فروغ دینے کی غرض سے مولانا آزاد نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، آئی آئی ٹی انڈین کونسل فار سائنٹفک ریسرچ، انڈین کونسل فارمیڈیکل ریسرچ اور انڈین کونسل فارہسٹوریکل ریسرچ جیسے باوقار ادارہ قائم کئے۔ علاوہ ازیں انھوں نے نیشنل کونسل فار ٹکنیکل ایجوکیشن کے توسط سے پورے ملک میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی فضا قائم کردی۔

تعلیم اور سیاست کے علاوہ مولانا نے جس شعبہ ہائے زیست کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ شعبہ ادب ہے، جہاں مولانا کی گل افشانی گفتار کے چرچے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ادب کے میدان میں ان کی عالم گیر شہرت کا بنیادی سبب ان کی شاہکار تصنیف ’’غبار خاطر‘‘ ہے غبار خاطر مولانا کے ان خطوط کا مجموعہ ہے جو انھوں نے قلعہ احمد نگر کی نظربندی کے دوران مولانا حبیب الرحمن شروانی کو لکھے تھے۔ غبار خاطر کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ یہاں قاری سے روبرو ہونے والی شخصیت اس ابوالکلام آزاد سے بالکل مختلف ہے جو وطن عزیز کی جنگ آزادی کا ایک عظیم قائد تھا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر اسلم پرویز کے یہ الفاظ دعوتِ غوروفکر دیتے ہیں:


’’ابوالکلام آزاد کو ایک سیاسی مدبر اور قومی ہیرو کی حیثیت سے جو شہرت حاصل ہوئی، اس کی مثال خود آزاد کی پہلوداد شخصیت کے تناظر میں پانی کے اس تیزوتند دھارے کی سی ہے جس کی قوت اسیر کرکے اس سے بجلی پیدا کرنے کا کام لیا جاتا ہے، اور اس بات کا بھید کھلتا ہے ان سرگوشوں سے جو انھوں نے غبارِخاطر میں جابجاکی ہیں۔‘‘ (اسلم پرویز ، گھنے سائے، دلی کتاب گھر مارچ 2001)

پنی اس لازوال تصنیف کے اندر مولانا آزاد واقعی دنیا ومافیہا سے بے نیاز ہو کر کسی اور ہی عالم میں موجود نظر آتے ہیں۔ ورنہ یہ محض اتفاق نہیں کہ قلعہ احمد نگر کی جیل میں بیٹھا اردو کا یہ مایۂ ناز ادیب چین کی نایاب وائٹ جیسمین چائے کی چسکیاں لیتا رہا اور انھیں چسکیوں کی تان پر ’’غبار خاطر‘‘ کی رومانی نشر تخلیق کرتا رہا۔ مولانا کی گل افشانی گفتار کا ایک نمونہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:


’’میں اس وقت بادۂ کہن کے شیشے کی جگہ چینی کی چائے کا تازہ ڈبّا کھولتا ہوں اور ایک ماہر فن کی دقیقہ سنجیوں کے ساتھ چائے دم دیتا ہوں۔ پھر جام وصرا حی کو میز پر جگہ دوں گا کہ اس کی اولیت اس کی مستحق ہوئی۔ قالم وکاغذ کو بائیں طرف رکھوں گا کہ سروسامانِ کار میں ان کی جگہ دوسری ہوئی۔ پھر کرسی پر بیٹھ جاؤں گا۔ کس بادہ گسار نے شامپین اور بورڈو کے صد سالہ تہہ خانوں کے عرق کہن سال میں بھی وہ کیف وسرور کہاں پایا ہوگا جو چائے کے اس دورِ صبح گاہی کا ہر گھونٹ میرے لئے مہیا کردیتا ہے۔‘‘ (مولانا ابوالکلام آزاد، غبارخاطر، ساہتیہ اکادمی اپریل 2007)

میں اس شعرے کے ساتھ علم وادب اور سیاست کے اس نابغۂ روزگار شخصیت کو گلہائے عقدیت پیش کرتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں۔

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے ملک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

(مضمون نگار سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں استاذ ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔