مولانا آزاد ایک عظیم مجاہد آزادی... یومِ پیدا ئش کے موقع پر خصوصی پیش کش

برطانوی پنجہ استبداد سے آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کے اصرارپر 15جنوری 1948ء کو انہوں نے وزیر تعلیم کی کرسی سنبھالی، اور مسلسل دس سال تک وزارت کے قلم دان کو بڑی حسن خوبی کے ساتھ سنبھالا۔

مولانا ابو الکلام آزاد
مولانا ابو الکلام آزاد
user

شاہد صدیقی علیگ

مولانا ابوالکلام ہندوستان کی تاریخ ساز شخصیتوں میں منفرد حیثیت کے حامل ہیں، جو 11 نومبر 1888ء مطابق 1305ھ کو مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام محمد خیرالدین اور والدہ کا نام عالیہ بنت محمد تھا، ان کا خاندان ان کی پیدائش کے دو سال بعد کلکتہ منتقل ہو گیا۔ انہوں نے ادب، دین، صحافت یا سیاست جس میدان میں بھی قدم رکھا، اس میں اپنے عظیم نقوش مرتب کیے، انہوں نے جس دور میں شعور کی آنکھین کھولیں وہ ملک عزیز پر برطانوی حکومت کے ظلم وستم کا دورِ شباب تھا، ایک طرف نئے نئے قانون کی آڑ میں ہندوستانیوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا تھا تو دوسری جانب انگریزی ایوانوں میں ابنائے وطن کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی حکمت عملیاں وضع کی جا رہی تھیں۔

مولانا آزاد غیر معمولی صلاحتیوں کے پیکر تھے۔ محض 11؍سال کی عمر میں ہی داغ دہلوی اور امیر مینائی کے پاس اصلاح کے لیے اپنے کلام بھیجنے لگے تو 12؍برس میں ایک رسالہ ’’نیرنگ عالم‘‘ شروع کیا۔ تیرہ سال کی عمر میں ادبی تنقید پر مضامین لکھے۔ آپ کی یاد داشت کے کیا کہنے کہ ایک نظر ڈالی اور ازبر ہوگیا۔


مولانا کو 1903ء میں پندرہ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ تقریر کا موقع ملا، دوسری مرتبہ اگلے سال انجمن اسلام کے لاہور کے جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے ایسی فصیح وبلیغ صدارتی تقریر کی کہ حاضرین ان کے گرویدہ بن گئے، جس کی بنا پر ان کو ابوالکلام کے خطاب سے نوازا گیا۔ مولانا آزاد کو بچپن سے ہی خطاب کرنے کا شوق تھا، جس کے بارے میں مولانا کی ہمشیرہ خدیجہ بیگم کہتی ہے کہ:

’’آزاد کو بچپن ہی سے خطیب بننے کا شوق تھا، چنانچہ کبھی کبھی وہ گھر میں کسی اونچی جگہ کھڑے ہوجاتے اور سب بہنوں کو آس پاس کھڑا کرکے کہتے کہ تم لوگ تالیاں بجاؤ اور سمجھو کہ ہزاروں آدمی چاروں طرف کھڑے ہیں اور میں تقریر کر رہا ہوں اور لوگ میری تقریر سن کرتالیاں بجا رہیں۔‘‘


صرف 16؍سال کی عمر میں مولانا آزاد کے سیاسی تفکرات نمودار ہونے شروع ہوگئے تھے، تقسیم بنگال 1905ء نے ان کے اوپر گہرے اثرات مرتسم کیے، اسی اثنا میں 1905ء میں ان کا تعارف شیام سندر چکرورتی سے ہوا جو کانگریسی رضاکاروں میں ایک بڑا رتبہ رکھتے تھے، جنہوں نے دوسرے حریت پسندوں سے بھی مولانا کو متعارف کرایا، تو انہیں بہت حیرت ہوئی، شروع میں انہیں ان کے اوپر بھروسہ نہیں تھا اور انہوں نے اپنی خفیہ میٹنگوں سے دور رکھنے کی کوشش کی، تاہم رفتہ رفتہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ ان کے قابل اعتماد ساتھی بن گئے۔

1908ء میں انہوں نے مصر، عراق، شام اور ترکی کا سفر کیا، بموجب وہاں کے سیاسی وسماجی حالات کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ بیرونی ممالک کے رہنمائوں سے گفتگو کرنے کے بعد مولانا آزاد تحریک آزادی میں سرگرم حصہ ادا کرنے کے لیے ذہنی طور پر بھی تیار ہوگئے، انہوں نے اپنے خیالات عوام تک پہنچانے کے لیے 12؍جون 1912ء کو الہلال کا پہلا شمارہ شائع کیا جس نے قیل مدت میں ملکی سیاست میں ہنگامہ برپا کر دیا تھا نیز مسلمانوں کے سیاسی شعور میں بھی عظیم انقلاب پیدا کردیا۔


حکومت نے خوفزدہ ہوکر 18؍ستمبر 1913ء کو پریس ایکٹ کے تحت دوہزار روپے کی ضمانت طلب کی، جسے ادا کردی گئی مگر اس کے بعد حکومت نے 10000؍ہزار کی ضمانت طلب کی اسے بھی ادا کر دی گئی، لیکن حکام کی منشا کچھ اور تھی لہٰذا 18؍نومبر 1914ء کو الہلال ضبط کرلیا، مگر جلد ہی انہوں نے نومبر1915 میں البلاغ نام سے دوسرا پرچہ شروع کر دیا، مولانا آزاد کی اس جرأت پر بنگال گورنمنٹ آپے سے باہر ہوگئی، اس نے ڈیفنیس آف آنڈیا ریگویشنز کی دفعہ کے تحت انہیں شہر بدر کا حکم سنا دیا، ساتھ ہی بمبئی، پنجاب، دہلی اور متحدہ صوبوں میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی، چنانچہ 23 ؍مارچ 1916ء کو مولانا آزاد کلکتہ سے رانچی چلے آئے۔ جہاں ان کے حامیوں نے 60؍ہزار افراد کے دستخطوں کا ایک میمورنڈم حکومت کو پیش کیا، تاکہ مولانا آزاد کی نظر بندی اور جلاوطنی جلد از جلد ختم کردی جائے، مگر حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگی۔ اس نے الٹے 8؍جولائی 1916ء کو ان کی نظر بندی کا حکم دے دیا، غالباً چار سال قید فرنگ کے بعد رہائی عمل میں آئی۔

مہاتماگاندھی نے 1920ء میں جب عدم تعاون تحریک کی تجویز پیش کی تو مولانا آزاد نے غیر مشروط طور پر اس کو قبول کرلیا، جبکہ کچھ قائدین ابھی شش وپنج میں تھے، عدم تعاون تحریک کے پیش نظر ناگپور کا جلسہ دسمبر 1920ء میں ہوا، جس کی پاداش میں دسمبر 1921ء انہیں سی آر داس کے ساتھ پریزیڈنسی جیل علی پور میں قید کر دیا گیا۔ جب مولانا آزاد رہا ہوکر باہر نکلے تو کانگریس آپسی گروہ بندی میں منقسم ہوتی نظر آرہی تھی، تو انہوں نے اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے رہنمائوں کے مابین مفاہمت کی تگ ودو شروع کی جس میں 1923 کے خصوصی اجلاس میں کامیابی ملی، ان کی اعلیٰ قائدانہ صلاحتیوں کو بیشتر لیڈران محسوس کرچکے تھے۔ چنانچہ انہیں کانگریس کا قومی صدر منتخب کرلیا گیا جو کانگریس کی تاریخ میں سب سے جواں سال (35) صدر تھے۔


12؍مارچ 1930ء کو ڈانڈی مارچ میں گاندھی جی سمیت ملک کے قدآور مسلمان راہنماؤں نے بھی حصہ لیا، نمک قانون کی تحریک میں کامیابی ملنے کے بعد حکومت کی تیور سخت ہوگئے، اس کے نتیجہ میں حکومت نے ان رہنماؤں کو جیلوں میں بھر دیا تھا۔ مولانا کو گرفتارکرکے میرٹھ جیل میں ڈال دیا گیا، جہاں سے وہ ڈیڑھ سال بعد چھوٹے۔

1935ء کے گورنمنٹ اف انڈیا ایکٹ کا نفاذ عمل میں آنے کے بعد گانگریس نے پہلی بار مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے الیکشن میں حصہ لینا قبول کیا، جبکہ صوبوں کی خود مختاری کے معاملے میں کانگریس کا ایک دھڑا الیکشن کی مخالفت کر رہا تھا مگر مولانا آزاد کے نزدیک کانگریس کو اپنی مقبولیت کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے اس سے اچھا موقع نہیں مل سکتا۔ انتخابات کے سلسلے میں مولانا آزاد کو بہت زیادہ تکالیف اور مشقتیں برداشت کرنی پڑیں۔ 1937ء کے الیکشن میں کانگریس کو سات صوبوں میں اکثریت حاصل ہوئی، ان کی فراست اور ذہانت کے دوسرے رہنما قائل ہوئے نہ رہ سکے، جس نے مولانا کو قومی سیاست میں نئی بلندی عطا کی۔ سال 1940ء میں رام گڑھ کے سیشن میں انہیں دوبارہ کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا۔


مولانا آزاد کے دورِ صدارت میں کانگریس نے دوسری جنگ عظیم کے خلاف ایک انفرادی ستیہ گرہ تحریک کا بگل پھونکا، اس سلسلے میں مولانا کی بھی اسیری عمل میں آئی اور دسمبر 1941ء میں رہا ہوئے۔ 14 جولائی 1942ء کوINC کی ورکنگ کمیٹی کا وردہ میں اجلاس ہوا جس میں مشاورت سے طے پایا کہ ایک بڑی سول نافرمانی کی مہم چلائی جائے، چنانچہ 8؍ اگست 1942ء کو ممبئی میں مولانا آزاد کی صدارت میں ہندوستان چھوڑو تحریک کی قرارداد پاس کی گئی جس کے جرم میں اگلے دن 9؍اگست کو پوری انڈین نیشنل کانگریس کو قیادت کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔

گاندھی جی کو پونا آغا پیلس اور مولانا آزاد وغیرہ رہنماؤں کو احمدنگر کے تاریخی قلعہ میں قید کر دیا گیا۔ جہاں قریب تین برس تک انہوں نے قید وبند کی مشقتیں برداشت کیں۔ دوران اسیری مولانا آزاد نے اپنی اہلیہ کی شدید بیماری کے باوجود پیرول کے لیے خط لکھنے سے انکار کردیا اور وہ انہیں داغ مفارقت دے گئی۔ زلیخا بیگم کی رحلت سے مولانا کو شدید تکلیف پہنچی مگر ان کے پختہ حوصلے اور آہنی عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اپریل 1945ء میں مولانا آزاد کو احمدنگر سے بانکورہ جیل میں منتقل کر دیا گیا یہاں ان کی صحت خراب ہوچکی تھی۔ بالآخر 2 سال نو ماہ اس قید وبند کے بعد 15؍جون 1945ء کو رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے وطن کی آزاد کے لیے اپنی زندگی کے سنہرے 9 سال 7 ماہ اور 24 دن یعنی 3519 دن برطانوی جیل میں گزارے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی زندگی کا ہر ساتویں دن سلاخوں کے پیچھے گزرا۔


برطانوی پنجہ استبداد سے آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کے اصرارپر 15جنوری 1948ء کو انہوں نے وزیر تعلیم کی کرسی سنبھالی، اور مسلسل دس سال تک وزارت کے قلم دان کو بڑی حسن خوبی کے ساتھ سنبھالا۔ پورے ہندوستان کا تعلیمی نظام ان کا مرہون منت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 11 نومبر کو ان کی سالگرہ کو قومی یوم تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔