ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ غازیؔ... بہادر شاہ ظفر کی 159ویں یوم وفات کے موقع پر

ہندوستان کے آخری مغل حاکم بہادر شاہ ظفر کی صحت قید وبند کی زندگی سے مزید خراب ہوگئی۔ 6؍نومبر 1862ء کو فالج کا تیسرا دورہ پڑا اور 7؍نومبر کی صبح 5؍بجے 87 ؍سال کی عمر میں انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا

بہادر شاہ ظفر
بہادر شاہ ظفر
user

شاہد صدیقی علیگ

آخری مغل بادشاہ ابوظفر سراج الدین محمد بہاد ر شاہ غازیؔ (ثانی) ہندوستان کے بیسویں اور آخری مغل شہنشاہ تھے، لیکن ان کے والد اکبر شاہ ثانی ممتاز محل کے فرزند کو اپنا جانشین بنانا چاہتے تھے مگر جب ولی عہد مرزا جہانگیر بخت نے ریزیڈنٹ پر حملہ کے باعث جلاو طنی کے عالم میں 18؍جولائی 1821ء کو آخری سانس لی، تب لعل بائی کے بطن سے پیدا بہادر شاہ ظفر کے لیے تخت شاہی کی راہ ہموار ہوگئی، 28؍ستمبر 1837ء کو وہ مغلیہ مسند پر متمکن ہوئے، لیکن وظیفہ خوار بادشاہ کو وراثت میں ایسی نام نہاد حکومت ملی جس کی طاقت اور دائرہ اختیار کمپنی کے کوتوال سے بھی کم تھی۔

بہادر شاہ ظفر ایک نرم دل، غریب پرور، شاعرا نہ اور صوفیانہ مزاج کے پیکر تھے، جنہوں نے مروجہ علوم کے علاوہ فنون حرب گھوڑ سواری، تلوار بازی، تیر اندازی اور آتشیں اسلحہ پر مکمل دسترس حاصل کی، خصوصاً وہ ایک بہترین نشانہ باز اور اعلیٰ گھوڑ سوار تھے، جن کا شمار اس عہد میں ہندوستان کے ڈھائی گھوڑ سواروں میں ہوتا تھا، ان کے بعد دوسرا نمبر مرزا جہانگیر بخت (بھائی) جبکہ آدھا نمبر پر مہاراشٹر کا گھوڑ سوار کا تھا۔


ہرعروجے را زوال است کے مماثل مغلیہ سلطنت بھی وقت کے پہیہ کے ساتھ آہستہ آہستہ اپنے زوال کی طرف گامزن تھی اسی اثنا میں یکایک میرٹھ سے قبل از وقت پہلی ملک گیر جنگ آزادی 10؍مئی1857ء کے شعلے بھڑ ک اٹھے۔ بغاوت کے علم بلند کرنے والے دیسی سپاہیوں نے درگاہ شاہ پیر صاحب پر روزہ افطار کرکے 11؍مئی کی صج جب دہلی کی دہلیز پر قدم رکھا، تب شہنشاہ ہند سراج الدین محمد بہاد رشاہ ظفر اس جھرونکھے میں تشریف فرما تھے جہاں کبھی مغل شہنشاہ شاہجہاں بیٹھ کر عوام سے روبرو ہوتے تھے۔ اچانک ان کی نظریں آسمان میں اٹھتے گرد وغبار کی طرف اٹھی تو انہوں نے رسالہ دار کو سوار بھیج کر ماجرہ جاننے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا کہ میرٹھ کے باغی سپاہیوں کا لاؤ ولشکر ہے جو کمپنی بہادر سے بغاوت کرکے عالم پناہ کے حضور میں پیش ہونے کے لیے متمنی ہے۔

بہرکیف تقربیاً شام چار بجے سپاہیوں نے حضورِمعلی سے مل کر التجا کی کہ وہ ان کے سروں پر ہاتھ رکھیں اور انقلابی تحریک کی عنان سنبھالیں،جو اس پیرانہ سالی میں سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا مگر 82 ؍سالہ ضعیف العمر تاجدار ہند کچھ لیت ولعل کے بعد رضامند ہوگئے اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔ ان کی حکمت عملیوں نے باغی فوجیوں کے حوصلوں میں ایک نئی جان پھونک دی، چنانچہ دلّی میں جوق درجوق انقلابیوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، جن میں سب سے اہم نام عظیم انقلابی بخت خاں کا ہے، موقع ومحل کے مدنظر بادشا ہ سلامت نے انگریزوں کے خلاف راجپوتانہ سمیت تمام ریاستوں کو تعاون کے لیے خطوط روانہ کیے، مگر ان کے خون اتنے سفید ہوچکے تھے کہ انہوں نے ان کا جواب دینا بھی گوارا نہ کیا۔


گنگا-جمی تہذیب کے علمبردار عالم پناہ کے حکم سے بخت خاں نے 9؍جولائی کو ڈھنڈورا پٹوایا کہ جو گائے ذبح کرے گا وہ توپ کے منھ سے اڑایا جائے گا۔ 19؍جولائی 1857ء کو بخت خان اور اس کے فوجیوں نے انگریزوں کے چھکے چھڑاتے ہوئے مغربی چوکیوں پر قبضہ کر لیا، مگر انگریز ہار کہاں ماننے والے تھے، انہوں نے اپنے نمک خواروں کے ذریعہ 7؍اگست کو انقلابیوں کے اسلحہ خانہ میں آگ لگ لگوادی جس میں کافی جانی نقصان ہوا، آخرکار جیون لعل، رجب علی، مرزا الہٰی بخش کی ٹولیوں اور غدار ہندوستانی ریاستوں کے فرماں رواؤں کی بدولت ایسٹ انڈیا کمپنی نے دلّی کی اینٹ سے اینٹ بجادی، دل برداشتہ بہادر شاہ ظفر نے قلعہ چھوڑ کر ہمایوں کے مقبرے میں جانے کا فیصلہ کیا، بخت خاں اپنے مورچہ پے ڈٹا ہوا تھا جیسے ہی اس نے سنا وہ ویسے ہی بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا، جہاں پناہ کو زمینی حقائق سے روبرو کرا کر اپنے ساتھ چلنے کی گزارش کی تو بادشاہ سلامت نے جواب دیا کہ ہم ہمایوں کے مقبرے جاتے ہیں، تم کل صبح وہاں آؤ۔

قابل ذکر امر ہے کہ قلعہ سے نکل کر بہادر شاہ ظفر سیدھے درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء پہنچے اور وہاں خواجہ شاہ غلام حسن سے ملاقات کی۔ پریشان حال شہنشاہ نے مختصر گفتگو کرنے کے بعد بتایا کہ جب تیمور نے قسطنطنیہ پر یلغار کی تھی تو اس نے وہاں کے سلطان با یزید یلدرم سے پیغمبر اکرم ﷺ کے خط کے بال حاصل کیے تھے، جو اب تک مغل بادشاہوں کے پاس محفوظ تھے لیکن اب میرے لیے آسمان کے نیچے یا زمین کے اوپر کوئی جگہ نہیں بچی، اس لیے میں یہ امانت آپ کے حوالے کر رہا ہوں تاکہ یہ محفوظ رہے۔


خواجہ شاہ غلام حسن نے وہ بال ان سے لے کر درگاہ کی تجوری میں رکھ دیئے، بھوک سے بے حال بادشاہ سلامت نے روکھی سوکھی روٹی کے چند لقمے نوش فرماکر ہمایوں کے مقبرے کی جانب رخ کیا۔ اگلے روز 21؍ستمبر 1857ء کو وعدے کے مطابق جنرل بخت خاں، ڈاکٹر وزیر خاں اور مولانا فیض احمد بدایونی بہادر شاہ ظفر سے ملے، مگر بادشاہ سلامت اپنے فریبی سمدھی مرزا الٰہی بخش کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے تھے، دلّی کو چھوڑنے کو راضی نہ ہوئے، اس طرح انہوں نے خود انگریزوں کو دنیا کی تیسری بڑی طاقت مغلیہ سلطنت کے آخری حکمراں کی باقی ماندہ عظمت واحترام کو پیروں تلے روندنے کا موقع فراہم کر دیا۔ مایوس بخت خاں بادشاہ کو ان کے حال پہ چھوڑ کر اپنی فوج کے ساتھ مشرقی دروازے سے دریا کی طرف اتر گیا، مرزا الٰہی بخش نے فوراً اس کی خبر برٹش خیمہ کو پہنچائی تو ہڈسن آخری تاجدار ہند کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچ گیا۔

بہادر شاہ ظفر، ز ینت محل اور شہزادے جواں بخت نے جان بخشی کے وعدے پرخود کو ہڈسن کے حوالے کر دیا، حراست کے دوران بہادر شاہ ظفر کو ہر لمحہ ذلت کے گھونٹ پینے کے علاوہ مختلف روحانی اور جسمانی اذیتیں جھیلنی پڑیں، مگر جب بے رحم ہڈسن نے مرزا مغل، مرزا خضرسلطان اور مرزا ابوبکر کو گولی مار کر ان کا سرتن سے جد ا کرکے بادشاہ کو بطور نذرانہ پیش کیا، تو ایک عمر رسیدہ مقید بادشاہ کی زبان سے برجستہ نکلا کہ ’’تیموری نسل کے غیور شہزادے اپنے بڑوں کے سامنے اسی طرح سرخرو ہوتے ہیں۔‘‘ اس طرح ایک لاچار و بے بس بادشاہ جیت گیا اور ہڈسن ہار گیا۔


27؍جنوری 1858ء کو صج 11؍بجے بہا در شاہ ظفر کے نمائشی مقدمہ کی سماعت ایک خود ساختہ ملٹری کمیشن نے شروع کی۔ پنجاب کمشنر لارنس کے حکم پر عدالت نے 2؍اپریل 1858ء کو جلاوطنی کی سزا سنائی۔ مورخہ 7؍کتوبر 1858ء بادشاہ سلامت، اہلیہ زینت محل، دو بیٹے مرزا جواں بخت اور مرزا شاہ عباس سمیت 35 ؍شاہی افراد کو بذریعہ بیل گاڑیوں دلّی سے کلکتہ روانہ کیا، مگر خوفزدہ فرنگیوں نے حفاظتی نقطہ نظر کے مدنظر انہیں اثنائے راہ ملک کی مختلف چھاؤنیوں میرٹھ و الٰہ آباد وغیرہ میں ٹھہرایا، میرٹھ کینٹ میں واقع ایک مسجد ان کے قیام کی گواہ تھی، 83 سالہ ناتواں بادشاہ سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے کلکتہ پہنچے۔ جنہیں 4؍دسمبر کو ہگلی کی ڈائمند بندر گاہ سے رنگون بھیجا گیا، چھ دن کی مسافت طے کرنے بعد ان کا مگویرا (Magoera) جہاز10 ؍دسمبر کو لنگر انداز ہوا، کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا منتظم تھا، اس نے بندرگاہ پر شہنشاہ اور ان کے خاندانی افراد کو اپنی تحویل میں لیا، جنہیں اس نے مختلف خیموں نیز ایک گیراج میں رکھنے کے بعد ساگون کی ایک عمارت میں منتقل کر دیا۔

ہندوستان کے آخری مغل حاکم بہادر شاہ ظفر کی صحت قید وبند کی زندگی سے مزید خراب ہوگئی۔ ان کا گلا فالج کا شکار ہوگیا، جہاں پناہ کو 6 ؍نومبر 1862ء کو فالج کا تیسرا دورہ پڑا اور 7 ؍نومبر کی صبح 5؍بجے 87 ؍سال کی عمر میں انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا، شہزادہ جوان بخت اور حافظ محمد ابراہیم دہلوی نے غسل دیا، سرکاری بنگلے کے پیچھے قبر کھودی گئی، ڈیوس کے مطابق ان کے جنازے میں تقریباً 100 ؍لوگ شامل تھے۔ شام 4 ؍بجے جسد خاکی کو سپرد خاک کر دیا گیا، تدفین کے بعد گور ہموار کردی گئی، جس کا علم 132 سال تک کسی کو نہیں ہوا۔ 1991ء میں ایک یادگاری ہال کا سنگ بنیاد رکھنے کی کھدائی کے دوران ایک زیر زمین قبر نکلی، نشانیوں اور باقیات سے تصدیق ہوئی کہ یہ سراج الدین بہادر شاہ ظفر کی آخری آرام گاہ ہے۔ 1994ء میں ان کے مقبرے کی تزئین وآرائش کی گئی۔ جس کی ہر اینٹ بہادر شاہ ظفر کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ

کتنا بدنصیب ہے ظفر دفن کے لیے

دوگز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔