یو پی: یوگی حکومت میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کی پامالی، مسجد پر چلا بلڈوزر

رام سنیہی گھاٹ واقع مسجد کو شہید کرنے سے قبل مقامی انتظامیہ نے مسجد سے تقریباً ایک میل دور تک سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا تھا تاکہ کوئی مسجد کے قریب نہ پہنچ سکے۔

تصویر بذریعہ گارجین ڈاٹ کام
تصویر بذریعہ گارجین ڈاٹ کام
user

تنویر

اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی واقع رام سنیہی گھاٹ شہر میں ایک مسجد کو شہید کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی حکمراں اتر پردیش میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کے خلاف جاتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے تقریباً 100 سال قدیم مسجد کو منہدم کر دیا۔ ہندوتوا کے علمبردار اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پہلے سے ہی مسلم مخالف اقدامات کے لیے لگاتار تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں، اور اب اس واقعہ کے بعد ان کے خلاف مزید آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ مسجد شہید کیے جانے کا معاملہ پیر کے روز پیش آیا، لیکن منگل کو اس سلسلے میں خبریں عام ہوئیں اور سوشل میڈیا پر اس کے خلاف آواز بھی اٹھنے لگی ہے۔ لوگ یہ جان کر حیران ہیں کہ 24 اپریل 2021 کو جب ہائی کورٹ نے کہہ دیا تھا کہ 31 مئی 2021 تک کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے، پھر کس طرح مسجد پر بلڈوزر چلا دیا گیا۔

’دی گارجین ڈاٹ کام‘ ویب سائٹ پر اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے ریاستی ہائی کورٹ کے حکم سے انحراف کرتے ہوئے مسجد پر بلڈوزر چلا دیا، اور یہ 1992 میں بابری مسجد انہدام کے بعد کسی مسلم عبادت خانہ پر کی گئی بڑی اشتعال انگیز کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسجد کمیٹی کے پاس موجود کاغذات کے مطابق یہ مسجد کم از کم 60 دہائی قدیم تھی اور برطانوی حکومت میں تعمیر ہوئی تھی۔


مسجد پر بلڈوزر چلائے جانے والے واقعہ کے تعلق سے بتایا جاتا ہے کہ پیر کے روز پولس اور سیکورٹی سروسز علاقے میں پہنچے اور لوگوں سے مسجد کے آس پاس کی جگہ خالی کرانے لگے۔ پھر انھوں نے بلڈوزر لا کر مسجد کی عمارت کو منہدم کر دیا۔ منہدم مسجد کے ملبہ کو ندی میں پھینک دیا گیا جس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ اس واقعہ کو انجام دینے سے قبل مقامی انتظامیہ نے مسجد سے تقریباً ایک میل دور تک سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا تھا تاکہ کوئی مسجد کے قریب نہ پہنچ سکے۔

دی گارجین ڈاٹ کام کے مطابق ایک مقامی امام مولانا عبدالمصطفیٰ، جو کہ مسجد کمیٹی میں بھی شامل ہیں، نے بتایا کہ مسجد سینکڑوں سال قدیم ہے اور مسجد میں ہزاروں لوگ پنج وقتہ نماز کے لیے روزانہ پہنچتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسجد شہید کیے جانے کے بعد علاقے کے سبھی مسلمان ڈرے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی مسجد کے قریب نہیں جا رہا اور نہ ہی انہدامی کارروائی کے خلاف کوئی آواز اٹھا رہا ہے۔ مولانا نے مزید بتایا کہ لوگ پولس سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ آج (18 مئی) بھی درجنوں مسلم افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے گئے ہیں۔


ضلع مجسٹریٹ آدرش سنگھ سے جب اس واقعہ کے تعلق سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’میں کسی مسجد کے بارے میں نہیں جانتا۔ مجھے بس یہ پتہ ہے کہ وہاں غیر قانونی تعمیرات تھی۔ اتر پردیش ہائی کورٹ نے بھی کہا تھا کہ وہ غیر قانونی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریجنل سینئر ضلع مجسٹریٹ نے کارروائی کی۔ میں مزید کچھ کہنا نہیں چاہتا۔‘‘ حالانکہ بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کا انہدام ہائی کورٹ کے ذریعہ 24 اپریل کو جاری حکم کی خلاف ورزی ہے۔ اس حکم میں کہا گیا تھا کہ کورونا وبا کے قہر کو دیکھتے ہوئے 31 مئی تک عمارت پر کوئی بھی بے دخلی یا انہدامی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 May 2021, 8:11 PM