بکسر: نتیش حکومت کی رپورٹ سے ہائی کورٹ حیران، 10 دنوں میں 789 لاشیں جلائی گئیں لیکن کورونا سے صرف 6 موت!

پٹنہ ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل للت کشور سے پوچھا ہے کہ اگر رپورٹ میں بکسر میں صرف 6 لوگوں کی ہی کورونا سے موت ہوئی ہے تو شمشان گھاٹ میں 789 لاشیں کیسے جلائی گئیں؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

کورونا وبا کے درمیان گزشتہ دنوں بہار میں گنگا ندی میں ملی لاشوں نے ہر کسی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ بکسر میں ندی کنارے لاشیں ملنے کے بعد حکومت کی بدنامی بھی ہوئی، لیکن اب لاشوں کے معاملے میں ریاستی حکومت کے حیران کرنے والے اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔ دراصل پٹنہ ہائی کورٹ میں حکومت کے ذریعہ جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، ان میں تضاد نظر آتا ہے۔ اس تضاد سے چیف جسٹس سنجے کرول حیران و ششدر ہیں۔

دراصل پیر کے روز پٹنہ ہائی کورٹ میں ہوئی سماعت کے دوران چیف سکریٹری کے ذریعہ جو رپورٹ پیش کی گئی اس میں بتایا گیا کہ یکم مئی سے 13 مئی کے درمیان بکسر میں کورونا سے 6 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ لیکن پٹنہ کے ڈویژنل کمشنر نے اپنی رپورٹ میں جانکاری دی ہے کہ 5 مئی سے 14 مئی کے درمیان بکسر واقع شمشان گھاٹ پر 789 لاشیں جلائی گئی ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ عام صورت حال میں تو اتنی لاشیں شمشان گھاٹ میں جلائی نہیں جاتیں، تو کورونا مریضوں کی لاشیں بڑی تعداد میں شمشان گھاٹ پہنچنے کی باتیں کہی جا رہی ہیں۔


بہر حال، اب بکسر میں کورونا سے ہوئی اموات اور گھاٹ پر جلائی گئی لاشوں کے اعداد و شمار میں اتنے بڑے فرق کو دیکھ کر ہائی کورٹ کے جج حیرت میں ہیں۔ انھوں نے سوال کیا ہے کہ ان دونوں رپورٹ میں سے کون سی رپورٹ درست ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل للت کشور سے بھی پوچھا ہے کہ اگر رپورٹ میں بکسر میں صرف 6 لوگوں کی ہی کورونا سے موت ہوئی ہے تو شمشان گھاٹ میں 789 لاشیں کیسے جلائی گئیں؟ اس سوال پر ایڈووکیٹ جنرل نے دوبارہ اعداد و شمار حاصل کرنے کی بات کہتے ہوئے عدالت سے کچھ وقت مانگا، جس کے بعد عدالت نے 19 مئی تک مختلف نکات پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔