یوگی راج میں سرکاری بدعنوانی کا گھناؤنا چہرہ ظاہر، مہلوک تاجر سے جڑے آڈیو ٹیپ نے مچائی سنسنی

آڈیو میں مہلوک تاجر ایک انجان شخص سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ "جو ڈیمانڈ ایس پی صاحب کی، وہی ڈیمانڈ ڈی ایم کی ہے۔ 5 لاکھ ایس پی، 5 لاکھ ڈی ایم اور باقی سب کے لیے 5 لاکھ، ہم کیا کھائیں گے؟"

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

اتر پردیش کے مہوبا ضلع کے تاجر اندرکانت ترپاٹھی کے قتل سے جڑے پانچ آڈیو ٹیپ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ریاستی انتظامیہ سے لے کر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ان پانچوں آڈیو سے اتر پردیش میں اقتدار کے تحفظ میں سرکاری نظام کی بدعنوانی میں ڈوبا گھناؤنا چہرہ ظاہر ہوتا ہے۔

غور طلب ہے کہ تاجر اندرکانت ترپاٹھی کی اتوار کے روز گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ترپاٹھی کے قتل کے بعد 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر مہوبا کے پولس سپرنٹنڈنٹ منی لال پاٹیدار کو بدعنوانی کے الزامات میں معطل کر دیا گیا تھا۔ ترپاٹھی نے مرنے سے پہلے ایس پی پر بدعنوانی اور وصولی کے لیے دباؤ بنانے کا الزام عائد کی تھا۔ جس کے بعد وہ اپنی ہی کار میں مردہ ملے تھے اور ان کی گردن پر گولی لگی تھی۔

وائرل ہو رہے چار آڈیو ٹیپ مبینہ طور پر مارے گئے تاجر ترپاٹھی کے ہیں، جنھوں نے مرنے سے پہلے بندیل کھنڈ میں پتھر کانکنی کو لے کر سیاسی لیڈروں، پولس اور ضلع انتظامیہ سے جڑے جبراً وصولی ریکٹ کا انکشاف کیا تھا۔ ان آڈیو میں بات چیت تاجر، مقامی رکن اسمبلی اور نامعلوم اشخاص کے درمیان کی ہے جب کہ پانچویں بات چیت ترپاٹھی کے چچیرے بھائی برجیش شکلا اور جرائم پیشہ آشو بھدوریا کے درمیان کی ہے۔ ان آڈیو ٹیپ کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔

سامنے آئے ایک آڈیو میں ترپاٹھی کو ایک انجان شخص سے فون پر بات کرتے اور کہتے سنا جا سکتا ہے کہ "جو ڈیمانڈ ایس پی صاحب کی، وہی ڈیمانڈ ڈی ایم کی ہے۔ پانچ لاکھ ایس پی، پانچ لاکھ ڈی ایم اور باقی سب کے لیے پ انچ لاکھ۔ ہم کیا کھائیں گے؟" اسی آڈیو میں انجان شخص کو یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ اس نے جون اور جولائی میں ایس پی کو 6 لاکھ روپے کی ادائیگی کی تھی، لیکن جب انتظامیہ کے ذریعہ پتھر کو توڑنے کا کام بند کر دیا گیا، تو وہ زیادہ نہیں دے سکا۔

ایک دیگر 4.26 منٹ کے آڈیو میں ترپاٹھی ایک ساتھی سے یہ کہتا ہے کہ وہ پہلی بار ایس پی مہوبا سے ملا تھا اور اسے بتایا تھا کہ "آپ کی نگرانی میں جی رہے ہیں، آپ جیسا بولیں گے ویسا کریں گے۔" اسی آڈیو میں ترپاٹھی کہتا ہے کہ وہ کبھی بھی رشوت دینے کے لیے ایس پی کے پاس نہیں گیا، لیکن اسے ایک نامعلوم جگہ بتائی جائے گی، جہاں یہ رقم ان کے آدمی کو سونپنا ہوگا۔

اسی طرح 28 سیکنڈ کے ایک دیگر آڈیو میں ترپاٹھی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ایس پی کو 5 لاکھ روپے اور اسٹیشن افسر کو 1 لاکھ روپے رشوت دیا ہے۔ اس کے بعد کے آڈیو میں ترپاٹھی کو ایک رکن اسمبلی کے ساتھ بات چیت کرتے اور شکایت کرتے سنا جا سکتا ہے کہ "کیسے مہوبا کے ایس پی، منی لال پاٹیدار کے ذریعہ اسے 6 لاکھ روپے تک کی رشوت دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا تھا۔"

ایک دیگر 1.49 منٹ کی آڈیو کلپ 8 ستمبر کو ترپاٹھی کو گولی لگنے سے کچھ ہی گھنٹے پہلے کی ہے۔ آڈیو میں مقامی غنڈہ بھدوریا کو تاجر کے بھتیجے سے یہ کہتے سنا گیا کہ راجہ صاحب (ایس پی مہوبا) بہت ناراض ہیں۔ آگے جرائم پیشہ کہتا ہے "اپنے چچا اندرکانت پر نظر رکھو۔ اگر تمھیں اس کا ٹھکانہ نہیں ملا، تو اس کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔"

وائرل ہو رہے ان آڈیو کے سامنے آنے پر مہوبا ایس پی کے معطل ہونے کے بعد ان کی جگہ عہدہ سنبھالنے والے ارون شریواستو نے کہا کہ ان آڈیوز کے بارے میں پتہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ "ڈی ایس پی رینک کا ایک افسر معاملے کی جانچ کر رہا ہے۔" اس درمیان ریاست کے ڈی جی پی ہتیش چندر اوستھی نے کہا کہ تاجر اندرکانت ترپاٹھی کے قتل اور اس کے پیچھے کے حالات کی جانچ کے لیے تین رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ 8 ستمبر کو اندرکانت ترپاٹھی کو نامعلوم اشخاص نے گولی مار دی تھی۔ مرنے کے چند گھنٹے پہلے اس نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا، جس میں الزام عائد کیا تھا کہ مہوبا کے ایس پی منی لال پاٹیدار نے اس سے جبراً وصولی کی اور اگر ان کے ساتھ کچھ بھی ہوا تو اس کے ذمہ دار پاٹیدار ہوں گے۔ ترپاٹھی نے کانپور میں علاج کے دوران 13 ستمبر کو دم توڑ دیا تھا۔

next