اتر پردیش: پی ایم آواس یوجنا میں بڑے گھوٹالے کا انکشاف

قنوج ضلع میں ضلع سطحی محکموں کے 40 افسران پی ایم آواس یوجنا دیہی کے سرٹیفکیشن کی مانیٹرنگ کے لیے لگائے گئے ہیں۔ کئی گرام پنچایتوں کو بھی اس کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

یوگی حکومت میں 'پردھان منتری آواس یوجنا' (پی ایم آواس یوجنا) کے تحت ایک بہت بڑے گھوٹالہ کی بات سامنے آ رہی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق اتر پردیش کے قنوج ضلع میں پی ایم آواس یوجنا کے ریویو کے دوران تقریباً 10 ہزار ایسے لوگوں کو گھر ملنے کی بات سامنے آئی ہے جو اس کے اہل نہیں تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل 'نوبھارت ٹائمز' پر اس سلسلے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سروے اور ریویو کا کام فی الحال جاری ہے اور نااہل پائے جانے والے لوگوں کے نام فہرست سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق قنوج ضلع میں ضلع سطحی محکموں کے 40 افسران پی ایم آواس یوجنا دیہی کے سرٹیفکیشن کی مانیٹرنگ کے لیے لگائے گئے ہیں۔ کئی گرام پنچایتوں کو اس کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ گرام پنچایت افسر اور گرام وکاس افسر کو مستفید ہونے والوں کا سرٹیفکیشن کر نااہلیت کی جانچ کرنی ہے۔ پی ڈی ڈی آر ڈی اے سشیل سنگھ کا اس سلسلے میں بیان آیا ہے کہ تقریباً 50 ہزار لوگوں نے دو سال قبل درخواست کی تھی، ان کی جانچ اور سرٹیفکیشن کا کام چل رہا ہے۔ ان میں اب تک تقریباً 10 ہزار نااہل نکل چکے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق منگل تک 188 لوگوں کا نام فہرست سے آن لائن ہٹا دیئے گئے ہیں۔ جانچ کے دوران بلاک تالگرام علاقہ کی حسینہ بیگم کا پہلے سے ہی کمرہ اور برآمدہ بنا ملا۔ پریم لتا کا پختہ مکان کھڑا ہے۔ بلاک تالگرام علاقہ سے تقریباً 6 ہزار درخواستیں دی گئی تھیں۔ رہائش کے لیے 1133 نااہل نکلے ہیں۔ پی ڈی ڈی آر ڈی اے سشیل کمار سنگھ نے بتایا کہ قنوج ضلع میں دو سال پہلے موبائل ایپ سروے ہوا تھا۔ اس کا ویریفکیشن چل رہا ہے۔ اہل اور نااہل کے بارے میں پتہ کیا جا رہا ہے۔ گرام پنچایتوں کے سکریٹری کی جانب سے اس کی فہرست پی ڈی ایف کے ذریعہ سے آن لائن لوڈ کی گئی ہے۔ اسے دیکھ کر کارروائی کی جا رہی ہے۔ پی ایم آواس یوجنا کے تحت 1.20 لاکھ روپیہ دیا جاتے ہیں۔ ساتھ ہی 90 دن کی قریب 18 ہزار روپے منریگا مزدوری بھی ملتی ہے۔ نہ ہونے پر 12 ہزار روپے کا بیت الخلاء بھی ایس بی ایم دیہی کے تحت مستفیدوں کو ملتا ہے۔ کل ڈیڑھ لاکھ روپے تین طرح کے منصوبوں پر ملتے ہیں۔

next