یو پی اسمبلی الیکشن: راجبھر کے بی جے پی سے اتحاد کی خبر پر اویسی کی پارٹی چراغ پا

اے آئی ایم آئی ایم ترجمان عاصم وقار نے کہا کہ ’’میں اے آئی ایم آئی ایم کی طرف سے عوام کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگر بی جے پی الٹی بھی کھڑی ہو جائے، ہم تب بھی بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے۔‘‘

اوم پرکاش راجبھر، تصویر آئی اے این ایس
اوم پرکاش راجبھر، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش اسمبلی انتخاب 2022 میں ہونا ہے اور چھوٹی بڑی سبھی پارٹیاں منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ اوم پرکاش راجبھر کی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) اور اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے بی جے پی اور کانگریس کے ساتھ ساتھ ایس پی-بی ایس پی سے بھی الگ اپنا ایک اتحاد قائم کیا تھا جس میں کچھ دیگر چھوٹی پارٹیوں کو بھی شامل کیا گیا۔ لیکن 15 اکتوبر کو اوم پرکاش راجبھر نے جو بیان دیا ہے اس سے اے آئی ایم آئی ایم کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ راجبھر نے بی جے پی کے ساتھ پھر سے ہاتھ ملانے کی خواہش ظاہر کر دی ہے اور اس کے لیے کچھ شرائط بھی رکھی ہیں۔ یہ خبر پھیلتے ہی اتر پردیش کی سیاست میں گرمی پیدا ہو گئی ہے۔

اوم پرکاش راجبھر کے ذریعہ بی جے پی کے ساتھ پھر سے اتحاد کرنے کی خبروں کے درمیان اب اے آئی ایم آئی ایم نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اتحاد سے الگ ہو جائے گی۔ اے آئی ایم آئی ایم اس بات سے حیران ہے کہ اگر بی جے پی نے راجبھر کے مطالبات مان لیے تو وہ (راجبھر) پورے اتحاد کے ساتھ این ڈی اے میں شمولیت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم ترجمان سید عاصم وقار نے اس تعلق سے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کبھی بھی بی جے پی میں شامل نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ہم اس وقت تک شکست نہیں مانیں گے جب تک بی جے پی کی شکست نہیں ہو جاتی۔


عاصم وقار نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’میں اے آئی ایم آئی ایم کی طرف سے عوام کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگر بی جے پی الٹی بھی کھڑی ہو جائے، ہم تب بھی بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ جو لوگ اپنی ذات اور مذہب کے لوگوں کے ساتھ سودا کرنا چاہتے ہیں اور خود کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، وہ بی جے پی کے ساتھ جا سکتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اسدالدین اویسی اور ہماری پارٹی مسلمانوں کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہم ان کی آواز کو تیز کر رہے ہیں، ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے اور ہماری لڑائی حکومت کے خلاف ہے۔ ہم بی جے پی میں شامل ہونے کی کبھی سوچ بھی نہیں سکتے ہیں اور نہ کبھی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کریں گے۔ ہم انھیں شکست دینے آئے ہیں اور انھیں شکست دے کر رہیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔