’بے روزگاری عروج پر ہے اور غیر منظم سیکٹر خستہ حال‘، مودی حکومت پر منموہن کا حملہ

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ ’’بے روزگاری عروج پر ہے، اور غیر منظم سیکٹر خستہ حال ہے۔ یہ بحران 2016 میں بغیر سوچے سمجھے لیے گئے نوٹ بندی کے فیصلے کے سبب پیدا ہوا ہے۔‘‘

ڈاکٹر منموہن سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
ڈاکٹر منموہن سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آج مرکز کی مودی حکومت کو بڑھتی بے روزگاری اور معیشت کی بدحالی کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے شدید ترین حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ 2016 میں بغیر سوچے سمجھے لیے گئے نوٹ بندی کے فیصلے نے ملک میں بے روزگاری کا عالم پیدا کر دیا اور غیر منظم سیکٹر کو خستہ حالی کی طرف دھکیل دیا۔ سابق وزیر اعظم نے کسی بھی معاملے میں ریاستوں سے مستقل طور پر مشورہ نہیں کرنے کو لے کر بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

دراصل ڈاکٹر منموہن سنگھ نے معاشی امور کے ’تھنک ٹینک‘ راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے ذریعہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منعقد ایک ڈیولپمنٹ سمٹ کا افتتاح کیا اور اسی موقع پر انھوں نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بڑھتے مالی بحران کو چھپانے کے لیے حکومت ہند اور بھارتیہ ریزرو بینک (آر بی آئی) کے ذریعہ اٹھائے گئے غیر مستقل اقدام کی وجہ سے پیدا قرض بحران سے چھوٹے اور درمیانے سیکٹر متاثر ہو سکتے ہیں، اور اس حالت کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ساتھ ہی انھوں نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ ’’بے روزگاری عروج پر ہے، اور غیر منظم سیکٹر خستہ حال ہے۔ یہ بحران 2016 میں بغیر سوچے سمجھے لیے گئے نوٹ بندی کے فیصلے کے سبب پیدا ہوا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔