بنگال میں یوگی آدتیہ ناتھ کا حیرت انگیز بیان، کہا ’عید پر زبردستی کرائی جاتی ہے گئوکشی‘

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مغربی بنگال کے مالدہ میں آج ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بنگال میں درگا پوجا پر پابندی لگائی جاتی ہے اور عید پر زبردستی گئو کشی کرائی جاتی ہے۔‘‘

یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر یو این آئی
یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر یو این آئی
user

تنویر

مغربی بنگال میں فتح کا پرچم لہرانے کے لیے بی جے پی اپنا پورا زور لگا رہی ہے اور بڑے بڑے لیڈروں کا بنگال دورہ شروع ہو گیا ہے۔ بی جے پی لیڈران ریاست میں اشتعال انگیز بیانات خوب دے رہے ہیں تاکہ ہندو ووٹوں کو متحد کر کے ترنمول کانگریس کو جھٹکا دیا جائے۔ اس تعلق سے آج اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی مغربی بنگال کی ممتا بنرجی کو شدید طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

شعلہ بیان لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ نے مغربی بنگال کے مالدہ میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی کو ہندو دشمن اور مسلم دوست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج بنگال میں درگا پوجا پر پابندی عائد کی جاتی ہے اور عید پر زبردستی گئوکشی کرائی جاتی ہے۔‘‘ یوگی آدتیہ ناتھ نے مزید کہا کہ ’’آج جب بنگال میں بدامنی اور بدحالی دکھائی دیتی ہے تو پورے ملک کو تکلیف ہوتی ہے۔ آج بنگال میں غریبی اور بدحالی ہے۔ بنگال میں مرکزی حکومت کی فلاحی اسکیموں کو نافذ نہیں ہونے دیا جاتا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’بنگال میں اسپانسرڈ جرائم اور دہشت گردی نہ صرف یہاں کی سیکورٹی کے سامنے بحران کھڑا کر رہا ہے بلکہ ملک کی سیکورٹی کو بھی چیلنج پیش کرتا نظر آتا ہے۔‘‘


یوگی آدتیہ ناتھ نے مغربی بنگال میں بے روزگاری کے لیے بھی ممتا حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پہلے یو پی کا نوجوان روزگار کے لیے بنگال آتا تھا، لیکن اب بنگال کا نوجوان روزگار کے لیے دہلی اور اتر پردیش پہنچتا ہے۔ بڑھتی بے روزگاری کی وجہ ریاستی حکومت ہے۔‘‘ اپنی تقریر میں انھوں نے ’لو جہاد‘ کا ایشو بھی اٹھایا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ’’دھوکے سے یہاں پر لو جہاد کے واقعات کو بڑھایا جا رہا ہے۔ ہم نے یو پی میں اس پر قانون بنا دیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ مغربی بنگال میں آٹھ مراحل میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 294 نشستوں والی بنگال اسمبلی میں 27 مارچ، یکم اپریل، 6 اپریل، 10 اپریل، 17 اپریل، 22 اپریل، 26 اپریل اور 29 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ مغربی بنگال میں برسراقتدار ٹی ایم سی تنہا اسمبلی انتخاب لڑ رہی ہے، جب کہ کانگریس لیفٹ پارٹیوں نے اتحاد بنا کر انتخابی میدان میں قدم رکھا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔