شرمناک! پریکٹیکل کے بہانے طالبات کو بوقت شب اسکول میں روک کر چھیڑخانی، 17 دن بعد رپورٹ درج، انسپکٹر معطل، اسکول منیجر گرفتار

ایک متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ پرنسپل سر کو وہ بہت اچھا انسان سمجھتی تھی، لیکن وہ تو حیوان نکلے۔ انھوں نے سازش کر کے ہماری بنائی ہوئی کھچڑی کو کچا بتا کر پھینک دیا اور اپنی کھچڑی سب بچوں کو کھلائی۔

تصویر بذریعہ آس محمد کیف
تصویر بذریعہ آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

مظفر نگر کے پرکاجی تھانہ علاقہ سے ایک بے حد شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں کے دو اسکول منیجرس نے انسانیت سوز حرکت انجام دے کر اساتذہ کے وقار اور بھروسے کو تار تار کر دیا ہے۔ انھوں نے پریکٹیکل کے نام پر طالبات کو بوقت شب اسکول میں روکا، انھیں نشیلی اشیاء دی اور پھر ان کے ساتھ چھیڑخانی کی گئی۔ اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ پرکاجی پولیس نے واقعہ کو 16 دن تک چھپا کر رکھا۔ معاملہ بڑھنے کے بعد ایس ایس پی ابھشیک یادو نے پرکاجی کوتوال کو معطل کر دیا ہے۔ 17 دن بعد حرکت میں آئی پولیس نے آج ایک ملزم یوگیش کمار کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعہ کے تعلق سے مقامی سطح پر کافی ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

واقعہ 18 نومبر کا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بھوپا تھانہ علاقہ کے سوریہ دیو پبلک اسکول کی 17 طالبات کو پریکٹیکل کرانے کے بہانے کمہیڑا گاؤں واقع جی جی ایس انٹرنیشنل اسکول میں لے جایا گیا تھا۔ تاخیر کا بہانہ بنا کر رات اسکول میں روک کر کھچڑی کھلائی گئی جس میں کوئی نشیلی دوا ملا دی گئی۔ ان کے ساتھ اسکول منیجرس نے رات بھر طالبات کے ساتھ چھیڑخانی کی۔ واقعہ کے اگلے دن طالبات نے اس کی جانکاری اپنے گھر والوں کو دی۔ سرپرستوں کو جب یہ پتہ چلا تو فوراً پولیس کو یہ جانکاری دی۔ پولیس نے گھر والوں کو جھوٹا بتا کر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔ معاملہ جب طول پکڑنے لگا تو پولیس نے مقدمہ درج کیا۔

ایک متاثرہ طالبہ میڈیا کے سامنے واقعہ ں تفصیل پیش کرتے ہوئے
ایک متاثرہ طالبہ میڈیا کے سامنے واقعہ ں تفصیل پیش کرتے ہوئے
تصویر بذریعہ آس محمد کیف

ایک متاثرہ طالبہ سمرن (بدلا ہوا نام) نے بتایا کہ واقعہ کے بعد سے وہ بہت تناؤ کی شکار ہے۔ پرنسپل سر کو وہ بہت اچھا انسان سمجھتی تھی، لیکن وہ تو حیوان نکلے۔ انھوں نے سازش کر کے ہماری بنائی ہوئی کھچڑی کو کچا بتا کر پھینک دیا اور اپنی کھچڑی سب بچوں کو کھلائی۔ سبھی طالبات 10ویں کے پریکٹیکل کا امتحان دینے کے لیے گئی تھیں۔ کوئی نہیں جانتی تھی کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ دونوں اسکول کے بڑے سر رات میں کمرے میں پہنچے۔ لڑکیوں کو محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے۔ ہم نے جب احتجاج کیا تو انھوں نے ہمیں ڈرا کر خاموش رہنے کی دھمکی دی اور کہا کہ وہ ہمیں بدنام کر دیں گے۔

ایک دیگر متاثرہ طالبہ کے والد منٹو کمار نے بتایا کہ پولیس نے 17 دن بعد ہماری شکایت پر کارروائی کی۔ کارروائی ایس ایس پی صاحب سے ملنے کے بعد ہوئی۔ مقامی کوتوال نے ہماری کوئی سماعت نہیں کی، وہ دونوں اسکول منیجرس ارجن سنگھ اور یوگیش کمار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے تھے۔ ایس ایس پی نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا، پرکاجی ایس پی دیہات کو فوراً جائے وقوع پر بھیج دیا۔ ایس ایس پی مظفر نگر کے مطابق پولیس نے ایک ملزم پرنسپل یوگیش کمار کو گرفتار کر لیا ہے۔


اس واقعہ کے بارے میں رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پرکاجی باشندہ اور سابق وزیر و کانگریس لیڈر دیپک کمار نے اس عمل کو پرکاجی کی پیشانی پر بدنما داغ قرار دیا۔ ’قومی آواز‘ سے بات کرتے ہوئے دیپک کمار نے کہا کہ اتر پردیش حکومت بیٹیوں کی حفاظت کی بات کرتی ہے، لیکن 17 دن تک بھی ان کے تھانہ میں بیٹیوں کے ستھ شرمناک حرکت کی رپورٹ درج نہیں ہوتی ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کو نظامِ قانون کی اس حالت پر اب خاموشی توڑنی چاہیے۔ آخر کس کی شہ پر پولیس نے کارروائی نہیں کی۔ آخر وہ کون تھا جو ملزمین کو بچا رہا تھا۔ اعلیٰ افسران نے بھی کارروائی کرنے میں تاخیر سے قدم اٹھایا۔

پرکاجی کے چیئرمین ظہیر فاروقی نے بھی اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ظہیر فاروقی نے بتایا کہ واقعہ کو لے کر علاقے میں کافی ناراضگی ہے۔ یہ بے حد شرمناک واقعہ ہے۔ پولیس نے آج ایک ملزم کی گرفتاری کی ہے، لیکن دونوں اسکول کی منظوری ختم کر دینی چاہیے، اور ملزمین کے خلاف بے حد سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔