عمر خالد ایک کھلے ذہن کا مالک جس کا دل غریبوں کے لئے دھڑکتا ہے

عمر خالد کی گرفتاری کے خلاف دانشوروں کا طبقہ آواز اٹھا رہا ہے، ان کا مطالبہ ہے کہ ملک کے ایسے ذہنوں کی جگہ جیلوں میں نہیں بلکہ ان کے ذہنوں کو سماج میں مثبت تبدیلوں کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔

عمر خالد
عمر خالد
user

قومی آواز تجزیہ

عمر خالد وہ نوجوان ہے جو اس راستے پر چلتا ہے جو اس کو صحیح لگتا ہے۔ وہ ان نوجوانوں میں سے نہیں ہے جو بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ اگر وہ بتائے ہوئے راستے پر چلنے والا نوجوان ہوتا تو وہ جماعت اسلامی کی طلباء تنطیم ایس آئی او کی بڑی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہوتا اور وہ صرف مسلمانوں کی بات کر رہا ہوتا، لیکن اس نے بہت کم عمری میں اپنے لئے وہ راستہ منتخب کیا جو اس کو صحیح لگتا تھا۔ اس کو غریبوں، مظلوموں اور آدیواسیوں (قبائلیوں) کے مسائل بہت پریشان کرتے تھے اور اسی لئے اس نے ان کی آواز بننے والا راستہ اختیار کیا۔

مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے سید قاسم رسول الیاس جو ویلفئیر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر بھی ہیں اور جماعت اسلامی ہند کے اہم رکن بھی ہیں، وہ ایک بہترین ذہن کے مالک ہیں۔ مسلم مسائل میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں اور ان کی اقلیتی سماج میں ایک پہچان ہے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو جدید اعلی تعلیم دلوائی۔ عمر خالد ان کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ عمر خالد کی والدہ پیشے سے ایک ڈاکٹر ہیں۔ عمر خالد نے دہلی یونیورسٹی کے بہترین کالج کروڑی مل کالج سے بی اے کیا اور پھر جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا۔ اس حقیقت سے بھی سب واقف ہیں کہ جے این یو میں جن طلباء کا داخلہ ہو تا ہے ان کا شمار ملک کے بہترین نوجوان دماغوں میں ہوتا ہے۔

ایک مذہبی گھرانے میں پیدائش اور پرورش کے باوجود عمر خالد نے خود کو ہمیشہ ایتھسٹ یعنی ملحد ہی لکھا۔ ان کو مذہب اور مذہبی امور میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ان کا دل ہمیشہ غریبوں اور پریشان حال لوگوں کے لئے دھڑکتا ہوا نظر آیا۔ عمر خالد جو جے این یو کے طلباء یونین کے انتخابات میں نہ صرف متحرک رہے بلکہ ان انتخابات کی ایک پہچان رہے ہیں۔ ان کے اور جے این یو طلباء یونین کے سابق صدر کنہیا کمار کے خلاف غداری کا کیس بھی درج ہوا اور دونوں کی گرفتاری بھی ہوئی۔ عمر نے پی ایچ ڈی کے پیپر جمع کرا دیئے ہیں اور ان کا موضوع آدیواسی سماج یعنی جھارکھند کے قبائیلی سماج اور ان کی تکالیف ہی رہا ہے۔

سوراج ابھیان کے رہنما یوگیندر یادو نے عمر خالد کے بارے میں کہا ہے کہ ایسے نوجونوں کی ہندوستان کو ضرورت ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پڑھ کر، ڈگری حاصل کر کے، اچھی نوکری کر کے سماج میں اور کامیاب لوگوں کی طرح زندگی گزارنا ایک آسان راستہ ہے لیکن غریبوں اور پریشان حال لوگوں کے دکھ درد کا خیال رکھنا اور ان کے حل کے لئے جدو جہد کرنا ایک مشکل راستہ ہے۔

عمر خالد کی گرفتاری کے خلاف سماج کا ایک بڑا دانشور طبقہ آواز اٹھا رہا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ ملک کےایسے ذہنوں کی جگہ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے نہیں ہے بلکہ ان کے ذہنوں کو سماج میں مثبت تبدیلوں کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔

Published: 14 Sep 2020, 6:11 PM
next