عمر خالد کی گرفتاری پر یوگیندر یادو اور شہلا بھی ناراض، مودی حکومت پر کیا حملہ

عمر خالد کی گرفتاری کے بعد پی ایم مودی کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے شہلا راشد نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ "جس طرح مودی کی 'ڈگری-شادی' فیک ہے، اسی طرح یہ کیس بھی فیک ہے۔"

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

دہلی پولس کی اسپیشل سیل کے ذریعہ جے این یو کے سابق طلبا لیڈر عمر خالد کی یو اے پی اے کے تحت گرفتاری کے خلاف دانشور طبقہ میں حیرانی اور ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی افراد مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں اور اس گرفتاری کو پوری طرح سے غلط ٹھہرا رہے ہیں۔ 'سوراج ابھیان' کے لیڈر یوگیندر یادو نے اس تعلق سے ایک ٹوئٹ بھی کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ "مجھے حیرانی ہو رہی ہے کہ عمر خالد جیسے نوجوان، اچھی سوچ اور اصول پسند سماجی کارکن کے خلاف یو اے پی اے کا استعمال کیا گیا ہے۔"

یوگیندر یادو نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ "خالد نے ہمیشہ کسی بھی طرح کے تشدد اور فرقہ پرستی کی مخالفت کی ہے۔ بلاشبہ وہ ان لیڈروں میں سے ہے جس کا ہندوستان اہل ہے۔ دہلی پولس ہندوستان کے مستقبل کو طویل مدت تک حراست میں نہیں رکھ سکتی۔"

سماجی کارکن ہرش مندر نے بھی عمر خالد کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمر خالد ان ہزاروں آوازوں میں سے ایک ہے جنھوں نے خاص طور سے پرامن، غیر تشدد اور جمہوری طریقوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ملک بھر میں ہوئے سی اے اے مخالف مظاہروں میں آئین کے حق میں بات کی۔ علاوہ ازیں عمر خالد کے تعلق سے نوجوان خاتون لیڈر شہلا راشد نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے پی ایم مودی کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "جس طرح مودی کی 'ڈگری-شادی' فیک ہے، اسی طرح یہ کیس بھی فیک ہے۔"

Published: 14 Sep 2020, 3:11 PM
next