دہلی فسادات، اسپیشل سیل نے عمر خالد کو کیا گرفتار

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم عمر خالد کو کل دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے دہلی فسادات میں سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
user

قومی آوازبیورو

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے دہلی فسادات کے معاملہ میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم عمر خالد کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیوز 18 میں شائع خبر کے مطابق عمر خالد کا نام دہلی فسادات سے متعلق ہر چارج شیٹ میں ہے۔ عمر خالد کی گرفتاری یو اے پی اے (غیرقانونی ایکٹیوٹیز روک تھام ایکٹ)(پریونشن) کے تحت کی گئی ہے۔ دہلی پولیس آج عمر خالد کو عدالت میں پیش کرے گی۔

واضح رہے دہلی فسادات کے تعلق سے دہلی پولیس کا اسپیشل سیل عمر خالد سے دو مرتبہ پوچھ تاچھ کر چکا ہے۔ پہلی مرتبہ کچھ ماہ قبل پوچھ تاچھ کی گئی تھی اور پھر دو ستمبر کو دوبارہ پوچھ تاچھ کی گئی تھی۔ پوچھ تاچھ کے بعد عمر خالد کا فون بھی جانچ کے لئے پولیس نے لے لیا تھا۔ شائع خبر کے مطابق دہلی پولیس نے فسادات کے ملزمین کے بیانات اور کال ریکارڈس کی بنیاد پر یہ گرفتاری کی ہے۔

واضح رہے شمال مشرقی دہلی کے کئی علاقوں میں 23 فروری اور 26 فروری 2020 کے درمیان فرقہ وارانہ دنگے ہوئے تھے۔ ان دنگوں میں 53 افراد کی موت ہوئی تھی اور 581 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے خواتین کی تنظیم ’پنجرا توڑ‘ کی تین طالبات کو گرفتار کیا ہوا ہے۔

واضح رہے کل خبر آئی تھی کہ دہلی پولیس نے اپنی سپلیمنٹری چارج شیٹ میں سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، سوراج ابھیان کے یوگیندر یادو، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور ماہراقصادیات جیتی گھوش کے نام بھی شامل کیے ہیں۔ بائیں محاذ کے رہنماؤں میں اس سب کو لے کر کافی ناراضگی ہے۔

Published: 14 Sep 2020, 8:49 AM
next