عمان بھی اسرائیل سے سمجھوتہ کے لئے بے چین، بحرین کی تعریف کی

اسرائیل کے خفیہ محکمے کے وزیر نے 13 اگست کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے کے اعلان کے کچھ دن بعد ہی کہہ دیا تھا کہ عمان بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو باضابطہ طور پر تشکیل دے سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسرائیل اور بحرین کے مابین 'امن معاہدے' کا عمان نے خیرمقدم کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ اس سے اسرائیلی اور فلسطین کے مابیں کشیدگی ختم کرنے اور امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

عمان نے سرکاری بیان میں کہا کہ حکومت اُمید کرتی ہے کہ بعض عرب ممالک کی جانب سے اٹھائے جانےوالے نئے حکمت انگیز اقدامات سے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور ایک ایسی مملکت فلسطین کی تشکیل میں مدد ملے گی جس کی راجدھانی مشرقی یروشلم ہوگی۔ اس طرح متعلقہ خطے میں امن قائم ہو سکے گا۔

اسرائیل کے خفیہ محکمے کے وزیر نے 13 اگست کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے کے اعلان کے کچھ دن بعد ہی کہہ دیا تھا کہ عمان بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو باضابطہ طور پر تشکیل دے سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں اسرائیل اور ایک سے زیادہ عرب ممالک علاقائی سیاست میں رد عمل سے زیادہ حکمت انگیزی سے کام لے کر بڑےقدم اٹھا رہے ہیں جس نے مشرق وسطیٰ میں اندیشوں کا رخ امکانات کی طرف موڑ دیا ہے۔

واضح رہے ان سارے معاہدوں میں سعودی عرب کی خاموش رضامندی شامل ہے اور بہت ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں سعودی عرب بھی فلسطین اور امن کے نام پر ایسا ہی کوئی معاہدہ اسرائیل سے کر لے۔ دنیا کے مسلمانوں میں ان حالات کو لے کر بےچینی ہے اور وہ اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اتنے سالوں کی اس لڑائی اور نفرت کا کیا فائدہ ہوا، کیا یہ سب کسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

next