ندائے حق: چین کی عالمی معاشی جارحیت... اسد مرزا

یہ یقین کرنا دشوار ہے لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب، چین سے اقتصادی جنگ ہار چکا ہے

ندائے حق: چین کی عالمی معاشی جارحیت...اسدمرزا
ندائے حق: چین کی عالمی معاشی جارحیت...اسدمرزا
user

اسد مرزا

اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا مغرب کے بجائے مشرق کے اشاروں پر چل رہی ہے یا اس سے متاثر ہے۔ اور ایسا بھی محسوس ہو رہا ہے کہ چینی ڈریگن، جو برسوں سے اس دنیا پر حکمرانی کرنے کی تیاریاں کررہا تھا اب بڑی خاموشی سے سرگرم ہوگیا ہے اور جلد ہی پوری دنیا پر چھا جائے گا۔

چین کی اس پیش قدمی میں کورونا وائرس نے بھی بڑی مدد کی ہے۔ بعض امریکی سیاست دانوں نے اس وائرس کو اور اسے دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے چین کو مورد الزام بھی ٹھہرایا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چین آج جس مقام پر پہنچ چکا ہے، وہ رواں دہائی میں اپنی جی ڈی پی اور آمدنی کو دوگنا کرلے گا اور عالمی اقتصادی نظام میں سب سے آگے ہوگا۔ چین کی جی ڈی پی 13.1 ٹریلین ڈالر ہے۔ وہ اس وقت دنیا میں دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے اور امریکا سے صرف ذرا سا ہی پیچھے ہے۔ ماہرین اقتصادیات کو توقع ہے کہ 2020 میں اس کی ترقی کی شرح 6 فیصد ہوگی اور وہ اپنی معیشت کو دوگنا کرنے کے مجوزہ ہدف کو حاصل کرلے گا۔

چینی لائحہ عمل

چینی توسیع پسندی پروگرام کا آغاز 1970 کی دہائی کے اواخر میں، چینی معیشت تک دیگر ملکوں کی رسائی کے اقدامات کے ساتھ ہوا۔ ٹھوس لائحہ عمل، شاطرانہ منصوبوں، سستے مزدور، کم قدر والی کرنسی اور ایک شاندار پروڈکشن سسٹم نے چین کو دنیا کے مینوفیکچرنگ مرکز کے طورپر خود کو قائم کرنے میں مدد فراہم کی، جس کے پاس ہر سامان کو انتہائی کم لاگت پر تیار کرنے کی صلاحیت تھی۔

اس کے ساتھ ہی مرکزی تعلیمی نظام کے ذریعہ منظم کی جانے والی تکنیکی مہارت سے آراستہ نوجوان آبادی نے بھی اسے ہر قدم پر علمی اور عملی دونوں تعاون فراہم کیا۔ اس طریقہ کار نے ایک غیر فعال معیشت کو خوشحال اور متنوع سپر پاور میں تبدیل کردیا۔ اور یہ ملک اب غیرمفتوح انداز میں پہلے نمبر پر پہنچنے کی جانب مسلسل آگے بڑھتا جارہا ہے۔

خوابیدہ مغرب

چین کی کامیابیوں کے لیے بڑی حد تک خود مغرب بھی ذمہ دار ہے۔ ماحولیاتی چیلنجز سے دوچار مغرب نے سستے مزدور اور کم قدر والی کرنسی کے لالچ میں پڑ کر اپنی بیشتر مصنوعات کو چین میں تیار کرانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن چین نے ان کا کھیل انہیں پر الٹ دیا۔ انہیں چینی کمیونسٹ پارٹی کی بڑھتی ہوئی طاقت سے ہوشیار ہوجانا چاہیے تھا، جو روسی کمیونسٹ پارٹی کے برخلاف، اپنے عوام پر اپنی آہنی گرفت روز بروز مضبو ط سے مضبوط تر کرتی جا رہی تھی۔

چین کے مستقبل کا منصوبہ

مورگن اسٹینلے کی پیش گوئی کے مطابق چین پورے ملک میں سپر شہروں کا جال تیار کر رہا ہے۔ ان میں سے 23 سپر شہروں کی آبادی نیویارک کی آبادی سے زیادہ ہوگی جب کہ صرف پانچ شہروں میں مجموعی طورپر 120 ملین افراد رہ سکیں گے۔ آبادی کے ان بڑے مراکز میں دیہی علاقوں سے نوجوان ورکروں کو لاکر بسایا جائے گا جس سے کہ چین، کم ترین لاگت پر موجودہ پروڈکشن سسٹم پر اپنی گرفت کو مزید مضبوط کرلے گا۔

چین جدید کاری اور شہرکاری کے اپنے پروگرام کے حصے کے طور پر 5 جی ٹیکنالوجی پر بھی کافی بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ آپ کی زندگی کے تمام شعبوں میں آرٹیفیشئل انٹلی جنس (اے آئی) کا عمل دخل ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں آپ کی زندگی پر حکومت کا زیادہ سے زیادہ کنٹرول ہوجائے۔

چین کی عالمی موجودگی

چین کی موجودگی اس وقت افریقہ میں اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل بحری علاقہ جبوتی سے لے کر جنوبی امریکا کے تیل کے تیسرے سب سے بڑے ذخائر ایکواڈور تک دیکھی جاسکتی ہے۔

چین نے دنیا کے بیشتر ملکوں تک اپنی رسائی کے لیے تیسری دنیا کے غریب ملکوں کو کئی طرح کے لالچ دیئے۔ انہیں سستی شرحوں پر قرضے اور باہمی امدادی پیکج دیئے، جو درحقیقت ان ملکوں کو چین کے اقتصادی دام میں پھنسانے کا ذریعہ تھے۔ چونکہ یہ ممالک قرض واپس کرنے کی حالت میں نہیں تھے اس لیے وہ کبھی ختم نہ ہونے والے قرض کے جال میں پھنستے چلے گئے۔ ان قرضوں کو معاف کرنے کے بدلے میں چینی کمپنیوں نے ان ملکوں کے اثاثوں کو اپنے اختیار میں لے لیا، اس طرح یہ ممالک اپنے قدرتی وسائل اور زمینوں سے محروم ہوگئے اور ان ملکوں میں چینی ادارے ہی عملاً حکمراں بن گئے۔

بی آر آئی پہل

چین نے انتہائی عیاری سے عالمی ’بیلٹ اور روڈ پہل (بی آر آئی) ‘ پروگرام کا آغاز کیا۔ جو اسٹریٹیجک، سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے صرف چین کے مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد دیگر ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا نہیں، بلکہ انہیں چین کا مرہون منت بنا دینا ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں کو جنہیں مغرب نے نظر انداز کیا یا جو مغرب کے زیر اثر نہیں ہیں انہیں چین کے آگے سرنگوں کر دینا ہے۔ بی آر آئی کاعالمی پہلو مغرب کے لبرل جمہوری نظام کے تحت چلنے والی سیاسی، فوجی اور اقتصادی طریقہ کار کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے غلبے والے نظام سے تبدیل کردینے پر مرکوز ہے۔

چین کے بی آر آئی پروگرام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ چین کی طرف سے دیئے جانے والے قرضوں کے معاہدوں میں شفافیت نہیں ہے اور یہ بعض اوقات قرض لینے والے ملکوں کی ضرورتوں کے بجائے چین کے مفادات کو کہیں زیادہ پورا کرتے ہیں۔ سری لنکا اس کی واضح مثال ہے۔ جب وہ چین سے لیے گئے قرض کو واپس کرنے میں ناکام رہا تو اسے اپنا ہمبن ٹوٹا بندرگاہ چین کے حوالے کرنا پڑا۔ چین کے بی آر آئی میں شامل ممالک، امریکا کے دوست اور اس کے اتحادی ممالک بھی مغرب کے قومی سلامتی کی حمایت کرنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں، کیوںکہ انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو اپنے یہاں بہت بڑی چینی سرمایہ کاری سے محروم ہوسکتے ہیں۔

ناقدین یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ چین ان ملکوں کے ساتھ بی آر آئی معاہدوں پر زیادہ زور دیتا ہے جہاں آمرانہ حکومت ہے۔ بیجنگ نے افریقہ میں زمبابوے میں، جنوب مشرقی ایشیا کے ملک لاوس اور جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں سرمایہ کاری کی ہے۔ مغربی ممالک چین کی اس بات کے لیے بھی نکتہ چینی کر رہے ہیں کہ اس نے چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی بی آر ٹی پروجیکٹ میں شامل ملکوں کو تقسیم کی ہے اور بولویا، وینزویلا اور ایکواڈور جیسے ان ملکوں میں چینی سرویلانس سسٹم نصب کردیئے گئے ہیں۔

چین اور حقوق انسانی

چین کے خلاف ایک اور سنگین معاملہ انسانی حقوق کی پامالی کا بھی ہے۔ جو کہ ناصرف اپنے شہریوں بلکہ میزبان ملکوں کے شہریوں کے ساتھ روا رکھتا ہے۔ ایسے بے شمار شواہد موجود ہیں کہ بی آر آئی میں شامل بیشتر ممالک چین کے خراب انسانی حقوق کے بارے میں کچھ بھی بولنے سے کتراتے ہیں۔ مثال کے طور پرکسی بھی مسلم ملک نے چین میں لاکھوں ایغور مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک حتی کہ ان کے قتل عام جیسی صورت حال پر کبھی کوئی آواز بلند نہیں کی۔ ایغوروں کے ساتھ زیادتی کی مذمت کے سلسلے میں چین کے خلاف مغربی ملکوں کی طرف سے اقوا م متحدہ میں پیش کردہ قرارداد کی کسی بھی مسلم اکثریتی ملک نے تائید نہیں کی۔

چین اور ہندوستان

ان دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان اب تک دو جنگیں ہوچکی ہیں اور اس وقت بھی چین ہندوستان کی زمین ہڑپنے کے فوجی لائحہ عمل پر گامزن ہے۔ لیکن تشویش کی اصل بات چین کے ساتھ ہندوستان کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے۔ 2019 کے اعدادو شمار کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین 92.68 بلین ڈالر کی باہمی تجارت ہوئی۔

پچھلے چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری چینی جارحیت کے جواب میں حکومت ہند نے کئی مقبول چینی موبائل ایپس پر پابندی عائد کردی ہے۔ لیکن ان اقدامات سے ہندوستانی صنعت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ کورونا بحران کے دوران بہت سے تجارتی پنڈتوں نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے ہندوستان میں منتقل ہونے کی پیشن گوئی کی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیوںکہ چینی کمپنیوں کے پاس جس طرح کی مہارت اور تکنیکی ترقی ہے، ہندوستانی صنعت اس کے پاسنگ میں بھی نہیں ہے۔ ہندوستان کو اس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید 15 سے 20 برس لگیں گے اور اس وقت تک دنیا پر چین کاغلبہ مکمل ہوچکا ہوگا۔

شاید آپ کے لیے یہ یقین کرنا دشوار ہو لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب چین سے اقتصادی جنگ ہار چکا ہے اور چین یہ بات اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ ایک عالمی سپر پاور بننے کے لیے علاقے پر کنٹرول کرنے کے مقابلے میں معیشت پر کنٹرول کرنا زیادہ موثر ہے۔ تازہ ترین اطلاعا ت کے مطابق چین، امریکہ کے خلاف ایک بڑی معاشی جنگ کی شروعا ت کرچکا ہے۔

(مصنف سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی سی اردو اور خلیج ٹائمز، دوبئی سے وابستہ رہ چکے ہیں)

next