کیوں نہ کہوں: بڑی تبدیلیوں کے دور میں بڑے فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے... سید خرم رضا

کورونا وبا سے جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں ان پر اقلیتوں کی تنظیمیں، ادارے اور افراد غور کریں اور آگے کا راستہ طے کریں، کیونکہ بڑی تبدیلوں کے دور میں بڑے فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

کورونا کے نہ آنے کی وجہ پتہ لگی نہ اس کے جانے کا کوئی راستہ نظر آ رہا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے آنے کے بعد کئی نئی چیزیں ہماری زندگی کا حصہ بن گئی ہیں اور اس نے کئی نئے سبق سکھا دیئے ہیں۔ ماسک لگانا، ہاتھوں کو دھونا، سینیٹائز کرنا اور ہاتھ نہ ملانا، فی الحال ہماری زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ مجبوری میں ہی صحیح ہم گھروں سے کم نکل رہے ہیں، محدود تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں، بچوں کو گھروں میں قید رکھے ہوئے ہیں اور کسی سے ملتے وقت ہم گھبرا رہے ہیں کہ کہیں اس سے ملنے سے ہمیں کورونا نہ ہو جائے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد اور اس بیماری سے ہونے والی اموات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کل ملا کر ہم سارے کام کرتے ہوئے خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس وبا نے ہماری زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کی رفتار میں بہت تیزی لا دی ہے۔ جن تبدیلیوں کو پوری طرح زندگی کا حصہ بننے میں کم از کم دس سال لگ جاتے، اب ایسا لگتا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے وہ تمام تبدیلیاں دو سال میں ہماری زندگی کا باقائدہ حصہ بن جائیں گی۔ تعلیمی نظام میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، لیکن اس وبا نے ان تبدیلیوں میں تیزی لا دی ہے۔ کورونا اگر آج ختم ہو جائے تو ہمارے لاکھ چاہنے کے با وجود ہم تعلیمی نظام میں آئی تبدیلیوں کو روک نہیں سکتے۔ جیسے تختی، قلم اور دوات اب تاریخ بن گئے ہیں، ویسے اب کلاس روم کلچر بھی اپنی رخصتی کی جانب گامزن ہے۔ اب آن لائن تعلیم ایک حقیقت ہے اور جن بچوں کا اس سال یا گزشتہ سال اسکول میں پلے کلاس میں باقائدہ داخلہ ہوا ہے ان کے لئے کلاس کا تصور شروع ہی نہیں ہوا، ان کے لئے تو تعلیم کا مطلب ہی موبائل اور کمپیوٹر پر ٹیچر کا پڑھانا اور اسکرین پر کلاس کے بچوں سے ملنا ہی ایک حقیقت ہے۔ بڑے بچوں نے بھی اس نظام کو نا چاہتے ہوئے قبول کر لیا ہے۔ یہ تبدیلی زندگی میں آنے والی تھی لیکن اس میں وقت لگتا لیکن اب اس وبا کی وجہ سے اچانک پہلے یہ مجبوری بنی اور آنے والے سالوں میں زندگی کا حصہ۔

تعلیم وہ شعبہ ہے جو آنے والی نسلوں کو تیار کرتا ہے اور آنے والی نسلیں تبدیلیوں کی وجہ بنتی ہیں۔ اس وبا نے تعلیم کے بعد سب سے زیادہ جس شعبہ کو متاثر کیا ہے وہ ہے کاروبار۔ آج بہت کم تعداد میں لوگ دکانوں پر جا رہے ہیں اور شہروں میں تو اکثریت آن لائن خریداری کو ہی اپنی زندگی کا حصہ بنا رہے ہیں۔ کھانے کا سامان ہو یا بنا بنایا کھانا ہو، کپڑے ہوں یا جوتے، بچوں کے کھلونے ہوں یا دوستوں کے لئے تحائف، سب آن لائن منگوائے اور بھیجے جا رہے ہیں۔ شہروں میں آن لائن خریداری کا چلن پہلے سے شروع ہو گیا تھا، لیکن اس وبا نے اس میں تیزی لا دی ہے اور جس کو ہماری زندگی کا باقائدہ حصہ بننے میں ابھی کئی سال لگنے تھے وہ اس وبا کی وجہ سے شہروں میں تو بہت تیزی سے زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ گاؤں دیہات میں وہی سب ہوتا ہے جو شہروں میں چل رہا ہوتا ہے چاہے کپڑے پہننے کا چلن ہو یا کھانا کھانے کے طریقے۔

جب یہ دو بڑے شعبہ کسی چیز سے متاثر ہوتے ہیں تو زندگی کے باقی شعبوں میں بھی یہ چیزیں خود بخود رائج ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر حضرات پہلے بھی باہر ہوتے ہوئے علاج اور سرجری تک کمپیوٹر کے ذریعہ کرتے تھے لیکن اس وبا نے اب اس میں شدت لا دی ہے اور شہروں میں ڈاکٹر صرف فون پر پرسکرپشن دے رہے ہیں، نہ مریض جانا چاہتا ہے اور نہ ڈاکٹر ملنا چاہتا ہے۔ حال سن کر دوا تشخیص کر دی جاتی ہے اور فیس آن لائن ٹرانسفر کر دی جاتی ہے۔

بہرحال تبدیلی انسانی فطرت ہے اور انسان ہر نئے چیلنج کا سامنا کرتا ہے، لڑتا ہے، راستہ نکالتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔ جو بھی فرد، خاندان، سماج یا ملک جتنی جلدی تبدیلیوں کو سمجھے گا وہ ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے گا اور اتنی تیزی سے ہی آگے بڑھنے کے لئے مضبوط ہوگا اور جو ماضی میں جیتا رہے گا یعنی جو اپنے دادا اور پردادا کے ماضی کے ساتھ جیتا رہے گا وہ اس تبدیلی کی دوڑ میں پچھڑ جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اقلیتوں کی تنظیمیں، ادارے اور افراد ان تبدیلیوں پر غور کریں اور آگے کا راستہ طے کریں، بڑی تبدیلوں کے دور میں بڑے فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

next