یو جی سی-نیٹ: ’این ٹی اے کی غلطی کی سزا طلبا کیوں بھگتیں؟‘ 3 مضامین کے امتحانات منسوخ ہونے پر کانگریس کا سوال
جئے رام رمیش نے کہا کہ سوال صرف یہ نہیں ہے کہ امتحانات دوبارہ کیوں ہو رہے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ اتنی سنگین خامیوں والا سوالنامہ تیار اور منظور کیسے ہوا؟

’نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی‘ (این ٹی اے) نے یو جی سی-نیٹ کے 3 موضوعات کا امتحان منسوخ کرنے اور دوبارہ یہ امتحان ستمبر ماہ میں لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس تعلق سے کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ آخر این ٹی اے کی غلطی کی سزا طلبا کیوں بھگتیں؟ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس بارے میں ایک تفصیلی پوسٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کی ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’یو جی سی-نیٹ جون 2026 کے امتحان کے تقریباً 2 ماہ بعد این ٹی اے نے خود اعتراف کیا کہ انگریزی، کامرس اور سماجیات کے سوالناموں میں حقائق پر مبنی، ٹائپنگ کی اور ترجمے کی خامیاں تھیں۔ اہم دانشوروں کے نام غلط لکھے گئے، کتابوں کے نام بگاڑ دیے گئے، سوالوں کی زبان میں خامیاں تھیں، قواعد اور جنڈر نمبر ایگریمنٹ کی غلطیاں تھیں، رموز و اوقاف کی غلطیاں تھیں اور قائم کردہ تصورات کے لیے غیر معیاری اصطلاحات استعمال کیے گئے۔‘‘
جئے رام رمیش اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’این ٹی اے کی کمیٹی نے پایا کہ بڑی تعداد میں ایسے سوال بھی دہرائے گئے جو پہلے کے امتحانات میں پوچھے جا چکے تھے۔ اب ان 3 موضوعات (انگریزی، کامرس اور سماجیات) کے امتحان 9 اور 10 ستمبر کو دوبارہ ہوں گے۔‘‘ ان حقائق کو سامنے رکھنے کے بعد کانگریس لیڈر نے کچھ اہم سوال قائم کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارا سوال ہے کہ این ٹی اے کی غلطی کی سزا ملک کے طلبا کیوں بھگتیں؟ کیا اتنی سنگین غلطیوں کا پتہ چلنے میں تقریباً 2 ماہ لگتے ہیں؟ اس تاخیر کے سبب جو طلبا مختلف یونیورسٹیوں میں اس سال کے تعلیمی سیشن میں داخلہ سے محروم ہو جائیں گے، ان کے نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا اور کون کرے گا؟‘‘
جئے رام رمیش اتنے پر ہی خاموش نہیں ہوتے، بلکہ مزید کچھ سوالات سامنے رکھتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ’’سوال صرف یہ نہیں ہے کہ امتحان دوبارہ کیوں ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ اتنی سنگین خامیوں والا سوالنامہ تیار اور منظور کیسے ہوا؟ لاکھوں نوجوانوں کے کیریئر سے جڑے قومی سطح کے امتحان میں ایسی لاپروائی کی ذمہ داری کس کی ہے؟ نظامِ امتحان میں غلطی کی قیمت امیدوار کیوں ادا کریں؟‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’یہ سوال صرف ان 3 موضوعات کے ہزاروں طلبا کے ہی نہیں ہیں، حکومت کو بتانا چاہیے کہ 84 دیگر موضوعات میں امتحان دے چکے کئی ہزار امتحان دہندگان کے نتائج میں تاخیر کیوں ہوئی؟‘‘
کانگریس جنرل سکریٹری نے مرکز کی مودی حکومت اور نظامِ امتحان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جن نوجوانوں نے جون میں امتحان دیا، ان کے لیے ہر دن اہم ہے۔ یو جی سی-نیٹ کے ریزلٹ سے جے آر ایف، اسسٹنٹ پروفیسر اہلیت اور پی ایچ ڈی داخلہ جیسے مواقع جڑے ہیں۔ اس لیے جو غلطی ہوئی ہے، اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے نوجوانوں کو کوسنے والے وزیر اعظم کیا اپنی ذمہ داری پر کچھ بولیں گے؟ ملک کا نوجوان جواب چاہتا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
