یوکرین سے لوٹیں دو سگی بہنیں کلثوم اور زینب، وہاں کی یادوں سے اب بھی خوفزدہ ہو جاتی ہیں

باہر بمباری، ایک وقت کھانا، ایک مرتبہ واش روم جانا، کسی کی کوئی مدد نہیں، اس سب کے بیچ خیریت سے دہلی لوٹیں محمد سالم کی دونوں بیٹیاں۔

کلثوم اور زینب، تصویر قومی آواز
کلثوم اور زینب، تصویر قومی آواز
user

سید خرم رضا

روس کے حملوں اور یوکرین کی جوابی کارروائی کو پورے دس دن ہو گئے ہیں اور ہر نئے دن کے ساتھ جنگ خوفناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ روس نے کئی شہروں کی اہم بلڈنگوں پر روسی جھنڈے ضرور لگا دیئے ہیں لیکن یوکرین کی جوابی کارروائی کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان شہروں پر روس کا قبضہ ہو گیا ہے۔

یوکرین کی دارالحکومت کیف سمیت خارکیف وغیرہ وہاں کے وہ شہر ہیں جہاں روس نے زبردست بمباری کی ہوئی ہے اور وہاں سے جان و مال کے نقصان کی زبردست خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ پرانی دہلی کی رہنے والی دو سگی بہنیں کلثوم اور زینب جو تین ماہ پہلے ہی خار کیف تعلیم حاصل کرنے گئی تھی، ان کے لئے یہ دس دن ہر روز نئی زندگی ملنے جیسا تھا۔ ان میں سے ایک ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے وہاں گئی تھی اور دوسری بہن ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرنے گئی ہوئی تھی۔ دونوں بہنوں پر اس دوران جو گزری ہے وہ رونگٹے کھڑے کرنے والی داستان سے کم نہیں ہے۔


دونوں بہنوں نے جہاں خوف کے سائے میں میٹرو اسٹیشن کے بنکروں میں ایک وقت کھا کر اور 24 گھنٹے میں ایک مرتبہ واش روم استعمال کرکے وقت گزارا، وہیں انہوں نے اپنے ہوسٹل کی بلدنگ کے باہر ٹینکوں کو کھڑے دیکھا اور بلڈنگوں پر آئندہ حملے کے لئے نشانات لگاتے دیکھا۔ کلثوم نے بتایا کہ کیسے انہوں نے وہاں سے رومانیہ کا سفر طے کیا۔ ان دونوں بہنوں نے اپنے گروپ کے ساتھ ٹرین سے رومانیہ کا سفر طے کیا جس میں وہ دارالحکومت کیف اور شہر لویو سے بھی گزریں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرین میں سوار ہونے کے لئے پہلے ترجیح یوکرین کے باشندوں کو دی جاتی تھی، پھر خواتین اور بعد میں غیر ملکی جوان لڑکوں کو۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی لڑکوں کو ٹرین میں سفر کرنے نہیں دیا جا رہا تھا اور ان کو مارا بھی گیا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں بہنیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بمباری کے بیچ یوکرین کے خار کیف سے رومانیہ پہنچ گئیں اور رومانیہ سے دہلی آ گئیں، لیکن ہندوستان کے کسی اہلکار کی کوئی مدد انہیں نہیں ملی۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ ان کے پاس کھانے کو ہے یا نہیں، پیسہ ہے یا نہیں، فون چارج ہے یا نہیں، گھر والوں سے بات ہو گئی یا نہیں، ان دونوں بہنوں کا کافی خراب تجربہ رہا، لیکن اب اس بات کی خوشی ہے کہ وہ اس خوفناک ماحول سے زندہ بچ کر گھر پہنچ گئی ہیں۔ ایئر پورٹ پر ان کا استقبال ایسے ہوا جیسے حج کرکے آئی ہوں، جو والدین دس دن سے پریشان تھے اور دعا کرتے نہیں تھک رہے تھے وہ اب ان ویڈیو کو بار بار دیکھ کر خوش نظر آ رہے ہیں جو ٹی وی پر ان کی بیٹیوں کے بیانات نشر ہو رہے ہیں۔ بہر حال ان دونوں بہنوں کو خار کیف میں موجود دوستوں کی یادیں ستا رہی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ جلد حالات ٹھیک ہوں اور وہ وہاں واپس جائیں، جبکہ والد کو نہیں لگتا کہ جلد حالات نارمل ہو پائیں گے۔


ان دونوں بہنوں کے والد محمد سالم جو دبئی میں انجینئر تھے اور کووڈ کی وجہ سے دو سال پہلے واپس دہلی آ گئے تھے اور دہلی میں انہوں نے پہلے کھانے کا کام شروع کیا اور اب اس کے ساتھ کاسمیٹکس کی ڈسٹریبیوٹرشپ لے لی ہے۔ ویسے تو برصغیر کے والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے اور خاص طور سے میڈیکل کی تعلیم کے لئے سابق سوویت یونین سے علیحدہ ہوئی ریاستوں میں بھیجتے ہیں۔ یہاں پر تعلیم کے لئے بھیجنے کے پیچھے صرف یہ نہیں ہے کہ والدین پر اقتصادی بوجھ کم پڑتا ہے بلکہ وہاں کا معیار ایسا ہے جس کی وجہ سے والدین متاثر ہوتے ہیں۔

محمد سالم جنہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کو اعلی تعلیم کے لئے یوکرین بھیجا، ان کا ماننا ہے کہ وہاں کا تعلیمی معیار بہت اچھا ہے۔ دس دن کے خوف اور تناؤ کے بعد محمد سالم اور ان کی اہلیہ غزالہ بہت خوش ہیں اور آنے والے مہمانوں کو گلاب جامن کھلا رہی ہیں، جبکہ والدہ غزالہ ان دنوں کو یاد کرکے رو بھی دیتی ہیں۔ جب ان کی بچیاں ہدایات اور ڈر کی وجہ سے اپنے گھر والوں کو صرف اتنی اطلاع دیتی تھیں کہ سب خیریت ہے اور فکر نہ کریں، ان کا سہارا صرف ایک وہاٹس ایپ گروپ تھا جس میں وہاں پھنسے بچے اور ان کے والدین گروپ میں شامل تھے، کلثوم، زینب، محمد سالم اور غزالہ پر جو گزری خدا کرے کسی کے اوپر نہ گزرے، جنگ جلد بند ہو اور حالات پھر پہلے کی طرح نارمل ہوں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔