تریپورہ فساد سے ہندوستان کی کثرت میں وحدت والی شناخت کو نقصان پہنچا: مولانا اعجاز عرفی قاسمی

مولانا قاسمی نے فسادات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کئی دنوں سے تریپورہ میں مسلمانوں کے گھروں کو منہدم کیا جا رہا ہے، ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہےـ

تریپورہ میں تشدد کے بعد کا ایک منظر
تریپورہ میں تشدد کے بعد کا ایک منظر
user

یو این آئی

نئی دہلی: سرحدی ریاست تریپورہ میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدرمولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ دائیں بازو کے شر پسند عناصر نے مسلم اقلیتوں، ان کے گھروں، ان کی دکانوں اور مسجدوں پر حملہ کرکے ہندوستان کی شناخت کثرت میں وحدت کے تصور کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں دعوی کیا کہ تقریباً ایک ہفتہ سے شر پسند عناصر مسلم اقلیتوں کی جان و مال، جائداد اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کے گھروں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے، ان کے خلاف گلیوں میں اور سڑکوں پر دل آزار نعرے لگائے جا رہے ہیں اورحکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ انھوں نے موجودہ سرکار کی مجرمانہ خاموشی اور ناکامی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو جانی اور مالی تحفظ عطا کرنا، نیز ان کی عبادت گاہوں، گھروں، ان کی دکانوں اور ان کے تعلیمی اداروں کی حفاظت کرنا اور انھیں فرقہ پرست عناصر کی ریشہ دوانیوں سے بچانا بر سر اقتدار حکومت کی آئین و دستور کی صراحت کے مطابق حفاظت ضروری ہے، جس میں بی جے پی سرکار ہمیشہ سے ناکام رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے سبب نہ صرف اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوتا ہے بلکہ عالمی پیمانے پر ہندوستان کی شناخت بھی مجروح ہوتی ہے۔


مولانا قاسمی نے فسادات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کئی دنوں سے تری پورہ میں مسلمانوں کے گھروں کو منہدم کیا جارہا ہے، ان کے عبادت گاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کریم کی اعلانیہ بے حرمتی کی جارہی ہے، مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہاں کی موجودہ سرکار غفلت و لاپرواہی کی نیند سو رہی ہے، حکومت کا یہ ظالمانہ عمل بے حد شرمناک اور افسوسناک ہے۔ ایک تکثیری جمہوری ملک میں ایک مخصوص فرقہ کو تحفظ عطا نہ کرنا آئینی صراحتوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے افراد و اشخاص کے خلاف کارروائی کرے، اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کا سد باب کرے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ انتظامیہ مجرمین کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتی ہے، اور سرکار بھی قانون و انصاف کی روشنی میں کارروائی سے گریز کرتی ہے۔ اس لیے تنظیم علماء حق موجودہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ سرکار اپنی ذمے داری ادا کرے، مجرموں اور شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرے، اقلیتوں پر ہونے والے مسلسل حملوں کو روکے اور جو فرقہ پرست جماعتیں اور تنظیمیں اس قسم کے حملوں میں ملوث ہیں انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے، تاکہ مستقبل میں امن و شانتی کی فضا برقرار رہے اور کوئی بھی اس قسم کی مجرمانہ حرکت کا ارتکاب نہ کرسکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔