پنجاب اور یو پی انتخاب سے قبل واپس ہو سکتے ہیں زرعی قوانین، اکھلیش یادو نے بی جے پی کے منصوبہ کا کیا انکشاف

اکھلیش کے مطابق بی جے پی حکومت زرعی قوانین کو نئے سرے سے نافذ کرے گی، کیونکہ یہ ان کارپوریٹس کی مدد کے لیے پرعزم ہے جنھوں نے زرعی قوانین نافذ ہونے کے بعد ضروری بنیادی ڈھانچے پر کاف پیسہ خرچ کر دیا ہے۔

اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

سماجوادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ مودی حکومت آئندہ پنجاب اور یو پی انتخابات کے مدنظر زرعی قوانین کو واپس لے سکتی ہے اور بعد میں انتخاب ختم ہوتے ہی انھیں نئے سرے سے نافذ کر سکتی ہے۔ بی جے پی پر صرف کارپوریٹس کی خدمت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ان صنعت کاروں کی خدمت کے لیے پرعزم ہے جنھوں نے زرعی قوانین کے سبب پہلے سے ہی سائلو اور دیگر بنیادی ڈھانچے کا قیام کیا ہے۔

اکھلیش یادو نے منگل کو ایک غیر رسمی بات چیت میں کہا کہ ’’میں آج کہہ رہا ہوں آپ سے، کہ پنجاب کے الیکشن کو دیکھتے ہوئے اتر پردیش کے انتخاب کو دیکھتے ہوئے ہو سکتا ہے کسانوں کے قوانین رد کر دیے جائیں گے، اور پھر الیکشن کے بعد نیا قانون پھر آ جائے گا۔‘‘ سماجوادی پارٹی سربراہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت الیکشن کے بعد زرعی قوانین کو نئے سرے سے نافذ کرے گی کیونکہ یہ ان کارپوریٹس کی مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے، جنھوں نے زرعی قوانین نافذ ہونے کے بعد ضروری بنیادی ڈھانچے کے قیام پر پہلے ہی پیسہ خرچ کر دیا ہے۔


اکھلیش یادو نے آگے کہا کہ حکومت جلد ہی کشی نگر میں حال ہی میں افتتاح کیے گئے ہوائی اڈے کو ’فروخت‘ کر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اہم طور پر روزگار میں ریزرویشن جیسے فائدوں سے محروم کرنے کے لیے سب کچھ فروخت کر رہی ہے جو ایک نجی ادارہ کے ذریعہ پروجیکٹ کے حصول کے بعد نافذ نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کشی نگر ہوائی اڈہ پروجیکٹ کا خواب ان کی حکومت نے دیکھا تھا، اور اس کی تعمیر کے لیے بجٹ میں 260 کروڑ روپے الاٹ کیے گئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔