تریپورہ: بی جے پی جھوٹ بول رہی ہے، اس نے اپوزیشن جماعتوں کے 9000 حامیوں کو نہیں توڑا!

سی پی آئی (ایم) نے بی جے پی سے ان لوگوں کے نام جاری کرنے کا مطالبہ کیا جو اس ہفتے ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے، پارٹی نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ ہر روز لوگ بی جے پی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں

بپلب دیب، تصویر فیس بک
بپلب دیب، تصویر فیس بک
user

یو این آئی

اگرتلہ: تریپورہ میں حزب اختلاف کی کمیونسٹ پارٹی-مارکسسٹ (سی پی آئی ایم) اور کانگریس نے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی پر اس دعوے کے لیے سخت تنقید کی ہے کہ دونوں جماعتوں کے 9000 سے زیادہ حامی اس ہفتے جنوبی تریپورہ میں انوکوٹی اور سیپاہیجلا اضلاع کے تین مختلف مقامات پر بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان مقامات پرنہ صرف سی پی آئی (ایم) اور کانگریس بلکہ شاہی کنبے کے پردیوت کشور دیب برمن کے ٹی آئی آر پی موٹھا حامی بھی بڑی تعداد میں شامل ہوئے ہیں۔

سی پی آئی (ایم) نے بی جے پی سے ان لوگوں کے نام جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو اس ہفتے ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے اور اس کے برعکس یہ دعویٰ کیا کہ تقریباً ہر روز لوگ بی جے پی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ بی جے پی نے جھوٹے دعووں سے سستی تشہیر حاصل کرنے کے لیے یہ حکمت عملی اپنائی ہے کیونکہ حال ہی میں سی پی آئی (ایم) کی طرف سے کوئی بھی پارٹی میں شامل نہیں ہوا ہے۔


بی جے پی کے دعوے کو ’’فرضی‘‘ قرار دیتے ہوئے، سی پی آئی (ایم) نے کہا کہ جب لوگ بہتر ذریعہ معاش کے لیے نوکریاں، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے بارے میں سوال پوچھنے لگے تو بی جے پی اپنا چہرہ چھپانے کے لیے ایسے دعوے کر رہی ہے۔ پارٹی لیڈر اور وزیر بپلب کمار دیو کے وزیر بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور مختلف آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کے ذریعےعوام کے پیسوں کی لوٹ میں ملوث رہے ہیں۔

بپلب کمار دیو نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 ستمبر کو جنوبی تریپورہ کے سبروم میں سی پی آئی (ایم) اور کانگریس کے 1187 خاندانوں کے کل 3651 لوگ وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود ڈاکٹر بھارتی پروین پوار کے دورے کے دوران بی جے پی میں شامل ہوئے۔ سی پی آئی (ایم) سب روم سب ڈویژنل کمیٹی کے سکریٹری دیپک چودھری نے بی جے پی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں بی جے پی کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ سی پی آئی ایم کے حامیوں کے ناموں کا اعلان کرے جو ان کی پارٹی میں شامل ہوئے۔ وہ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے 30 لوگوں کے ناموں کا اعلان بھی نہیں کر سکتے۔ اس کا سارا پروپیگنڈا بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہے‘‘۔


اگلے دن بپلب کمار دیو نے انوکوٹی ضلع کے کیلاشہر میں ایک جلسے میں دعویٰ کیا کہ 795 خاندانوں کے 2357 ووٹروں نے سی پی آئی (ایم)، کانگریس اور ٹی آئی پی آر اے موتھا کو چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ کیلاشہر سے سی پی آئی (ایم) ایم ایل اے۔ ایم علی نے کہا کہ یہ بیان غلط ہے کیونکہ صرف 2000 کرسیاں لگائی گئیں اور 500 کے قریب لوگ جلسہ گاہ کے ارد گرد کھڑے تھے، تو 2357 نئے لوگ بی جے پی میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟

ایک دن بعد، وزیراعلی نے ضلع سیپاہیجلا کے کملساگر علاقے میں ایک ریلی نکالی، جہاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی پی آئی (ایم) کے 938 خاندان اور کانگریس کے 3585 حامی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ حلقہ سے سی پی آئی (ایم) کے ایم ایل اے نارائن چودھری نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 10 افراد نے بھی سی پی آئی (ایم) کو نہیں چھوڑا ہے۔


کانگریس کے صدر پیوش کانتی بسواس نے بھی سی پی آئی (ایم) سے ہاتھ ملا تے ہوئے ان لوگوں کی تفصیلات مانگی جو کانگریس پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا ’’تریپورہ کے لوگ اب بی جے پی میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ انہوں نے پچھلے تین سالوں میں صرف دھوکہ دیا ہے۔ لوگوں اور ان کی زندگیوں کو قابل رحم بنا دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔