افغانستان: تین زوردار دھماکوں سے دہل گیا جلال آباد، 3 ہلاک، درجنوں زخمی

افغانستان کے نیوز چینل ’ٹولو نیوز‘ نے ننگرہار خطہ کے مقامی افسران کے حوالے سے بتایا ہے کہ جلال آباد کے پی ڈی 6 میں سڑک کنارے لگائے گئے آئی ای ڈی کی زد میں طالبان کی گاڑیاں آ گئیں۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

افغانستان کے جلال آباد میں تین زوردار بم دھماکوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق پی ڈی 13 علاقے میں ایک امپروائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (آئی ای ڈی) بلاسٹ ہوا ہے جس کی زد میں آنے سے کم از کم 19 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ کچھ خبروں میں زخمیوں کی تعداد زیادہ بھی بتائی جا رہی ہے۔ ایک دھماکہ پی ڈی 6 علاقے میں اور تیسرا دھماکہ کسی الگ مقام پر ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں میں 3 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں اور کچھ کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ خبر رساں ادارہ اے ایف پی نے 2 افراد کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے۔

افغانستان کے نیوز چینل ’ٹولو نیوز‘ نے ننگرہار خطہ کے مقامی افسران کے حوالے سے بتایا ہے کہ جلال آباد کے پی ڈی 6 میں سڑک کنارے لگائے گئے آئی ای ڈی کی زد میں طالبان کی گاڑیاں آ گئیں۔ زخمیوں کو ننگرہار کے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور اسپتال کے افسران نے بتایا کہ تقریباً دو درجن زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔


اس درمیان پنٹاگن نے گزشتہ مہینے افغانستان میں کئی شہریوں کی جان لینے والے ڈرون حملے کے معاملے میں اپنی غلطی مان لی ہے۔ اس نے بتایا کہ ایک تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ حملے میں صرف شہری مارے گئے تھے، نہ کہ اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گرد، جیسا کہ پہلے مانا گیا تھا۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ مرین جنرل فرینک میک کنزی نے پنٹاگن کی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ حملہ ایک غلطی تھی۔ 29 اگست کو ہوئے اس حملے کو پنٹاگن کے افسر کئی دن تک صحیح ٹھہراتے رہے تھے۔ اس حملے میں سات بچوں سمیت 10 شہریوں کے مارے جانے کے باوجود ان کی جانب سے اسے صحیح طریقے سے انجام دینے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔