دہرادون میں ٹرائبل کانفرنس کے انعقاد سے قبائلی نمائندے برہم

ضلع پنچایت رکن جگت مرٹولیا، گاؤں کے پردھان منوج مرتولیا، کرشنا پنچپال، للیتا مرتولیا، ساوتری پانگتی اور کئی پنچایت کے نمائندوں نے کہا کہ دھامی حکومت سرحدی خطے کو نظر انداز کر رہی ہے۔

پشکر سنگھ دھامی، تصویر آئی اے این ایس
پشکر سنگھ دھامی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نینی تال/پتھورا گڑھ: دہرادون میں ڈائریکٹوریٹ آف ٹرائبلس ڈیولپمنٹ، اتراکھنڈ کے زیر اہتمام مجوزہ ٹرائبل کانفرنس کو دہرادون میں منعقد کیے جانے سے سرحدی قبائلی برہم ہیں اور اسے بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت (بی جے پی) کی سازش قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھامی حکومت پر نوکر شاہی کا غلبہ ہے۔ ضلع پنچایت کے رکن جگت سنگھ مارٹولیا نے کہا کہ دو سال پہلے سے مُنسیاری میں قومی سطح کے قبائلی کانفرنس کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ کانفرنس کے لیے ڈپٹی کلکٹر کی صدارت میں کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں۔ کووڈ- 19 کی وجہ سے کانفرنس منعقد نہیں ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں پورے ملک سے قبائل کے نمائندے شرکت کرنے والے تھے۔ ایسا مانا جاتا تھا کہ سرحدی خطے کی ترقی اور اتراکھنڈ کے قبائل کے ثقافتی ورثے سے ملک کے قبائل اس سے واقف ہوں گے۔ چین کی سرحد پر منعقد ہونے والی یہ کانفرنس ریاست کے اس ناقابل رسائی حصے کو ایک نئی شناخت ملتی۔ ساتھ ہی یہاں کی ترقی کو نئی جہتیں ملتیں، لیکن دھامی حکومت میں حاوی بیوروکریسی کی وجہ سے یہ کانفرنس ضائع ہو گئی۔ بیوروکریسی کے غلبے کی وجہ سے اس کانفرنس کو ریاستی سطح کا کر دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ کانفرنس کے لیے پہلے سے مجوزہ مقام مُنسیاری کو تبدیل کر کے دہرادون کر دیا گیا۔ دون میں ہونے والی کانفرنس 10 نومبر سے تین دن تک جاری رہے گی۔


ضلع پنچایت رکن جگت مرٹولیا، گاؤں کے پردھان منوج مرتولیا، کرشنا پنچپال، للیتا مرتولیا، ساوتری پانگتی، گوکرن پانگتی، لکشمی رِلکوٹیا، پنکج برجوال، ہریندر برنیا، مہیش راوت اور کئی پنچایت کے نمائندوں نے کہا کہ دھامی حکومت سرحدی خطے کو نظر انداز کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔