مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کی میٹنگ کرنے کی درخواست کو کسانوں نے کیا مسترد

سکھ تنظیم کے صدر جسبیر سنگھ ورک نے کہا کہ ہم نے متفقہ طور پر ملاقات کے لیے ان کے گھر نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی / آئی اے این ایس
مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور کھیری: لکھیم پور کھیری کے کسانوں نے 3 اکتوبر کو ہونے والے تشدد کے معاملہ کو حل کرنے کے لیے مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کی طرف سے کی گئی ملاقات کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق وزیر نے کسانوں کو منگل کے روز اپنی رہائش گاہ پر میٹنگ کے لیے بلایا تھا تاکہ دھان کی خریداری سے متعلق مسائل اور 3 اکتوبر کو ہوئے تشدد کے معاملہ کو حل کیا جا سکے، جس میں ان کا بیٹا آشیش اہم ملزم ہے۔

آشیش جیل میں قید ہے اور اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سکھ برادری کے رہنماؤں نے ایک گردوارے میں ہنگامی میٹنگ طلب کی اور علاقے کے کسانوں سے کہا کہ وہ وزیر کے اجلاس میں شرکت نہ کریں۔


سکھ تنظیم کے صدر جسبیر سنگھ ورک نے کہا کہ ہم نے متفقہ طور پر ملاقات کے لیے ان کے گھر نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ ہمارے کسانوں کو دھان کی زیادہ قیمت دے کر پھنسانے کی کوشش کر سکتا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ وہ 3 اکتوبر کے واقعے میں گئیں جانوں کی تلافی نہیں کر سکتا۔ اگر سکھ طبقہ کے کسی فرد کا جے مشرا یا اس کے خاندان سے کوئی تعلق ہے تو پورا سکھ سماج اس شخص کا بائیکاٹ کرے گا۔

وزیر کی گاڑی سے مبینہ طور پر کچل کر جان گنوانے والے لوپریت کے اہل خانہ نے کہا کہ وزیر نے معاملے کو حل کرنے اور تصفیہ تک پہنچنے کے لیے اپنے آدمیوں کے ذریعے ملاقات کے لیے ایک دعوت نامہ بھیجا تھا۔ انہوں نے فصل کی خریداری میں تعاون کی پیشکش بھی کی تھی لیکن ہم نے انکار کر دیا۔


کسانوں نے کہا کہ ابھی تک وزیر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ ہمارا ان سے اور ان کے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دوران ایس آئی ٹی کے ایک رکن نے کہا کہ ہم معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔ ہم نے تمام گواہوں کو سیکورٹی فراہم کی ہے۔ اگر کسی کو خطرہ ہے یا دباؤ ڈالا جا رہا ہے تو وہ ہمیں یا مقامی پولیس کو تحریری شکایت کر سکتے ہیں۔ جس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔