جو لوگ ملک کو بچانا چاہتے ہیں وہ کانگریس کے ساتھ آئیں: جگنیش میوانی

گجرات کے آزاد رکن اسمبلی جگنیش میوانی نے تکنیکی اسباب کی بنا پر کانگریس کی باضابطہ رکنیت اختیار نہیں کی، لیکن انھوں نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ الیکشن وہ بطور کانگریس امیدوار لڑیں گے۔

تصویر ویپن
تصویر ویپن
user

قومی آوازبیورو

کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی موجودگی میں منگل کے روز کنہیا کمار کے ساتھ ساتھ جگنیش میوانی کی بھی کانگریس میں انٹری ہوئی۔ حالانکہ میوانی نے تکنیکی اسباب کی وجہ سے رسمی طور پر کانگریس کی رکنیت نہیں لی، لیکن انھوں نے کانگریس کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ 2022 کا گجرات الیکشن وہ بطور کانگریس امیدوار لڑیں گے۔

کانگریس ہیڈکوارٹر میں استقبالیہ تقریب کے بعد جگنیش میوانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ایک آزاد رکن اسمبلی ہوں، اس لیے رسمی طور سے کانگریس جوائن نہیں کر سکتا۔ لیکن اس نظریہ کے ساتھ ہونا میرے لیے بہت اہم ہے۔ راہل جی نے بھی کہا ہے کہ پرچہ بھر کر رکنیت حاصل کرنا ہے تو وہ کبھی بھی کر سکتے ہیں، ابھی اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہو۔‘‘ انھوں نے کہا کہ 2022 کے انتخاب میں کانگریس کے نشان پر ہی الیکشن لڑوں گا اور کانگریس کے لیے مہم چلاؤں گا۔


جگنیش میوانی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا آئین اور جمہوریت خطرے میں ہے، ہمیں اسے بچانا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جو کہانی گجرات سے شروع ہوئی، اس نے 7-6 سال میں ملک میں جو کہرام مچایا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ہماری آئین پر حملہ ہو رہا ہے، آئیڈیا آف انڈیا پر حملہ ہو رہا ہے۔ آج بھائی بھائی کے دشمن بنے ہوئے ہیں، اتنا زہر ناگپور اور دہلی سوچی سمجھی سازش کے تحت پھیلا رہے ہیں۔ کچھ بھی کر کے اس ملک کی آئین، جمہوریت اور آئیڈیا آف انڈیا کو بچانا ہے اور اس کے لیے مجھے کانگریس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے، جس نے انگریزوں کو کھدیڑ کر دکھایا ہے، اس لیے میں آج کانگریس کے ساتھ کھڑا ہوں۔

دلت لیڈر میوانی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ’’آج قومی سطح پر جو ہو رہا ہے، وہ سب کچھ ہم لوگ گجرات میں دیکھ چکے ہیں، برداشت کر چکے ہیں۔ میں بڑی فکر کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ 3 ہزار کلو کا ڈرگس 20-15 لاکھ بے روزگار نوجوانوں کو نشے کے چنگل میں پھنسانے کے لیے گجرات میں اڈانی کے بندرگاہ پر اتر رہا تھا۔ آج جب مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے تب روزگار دینے کی جگہ یہ فاشسٹ طاقتیں چاہتی ہیں کہ انھیں روزگار تو نہ ملے، انھیں نشے کی حالت میں چھوڑ دیا جائے۔ ان سارے حالات میں بابا صاحب امبیڈکر کی آئین کو بچانا ہے، آئیڈیا آف انڈیا کو بچانا ہے۔‘‘


میوانی نے وزیر اعظم مودی کے سنٹرل وِسٹا سائٹ پر جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’وزیر اعظم جب امریکہ سے واپس آتے ہیں تو دیکھنے جاتے ہیں کہ سنٹر وِسٹا کا کام ٹھیک سے چل رہا ہے یا نہیں۔ لیکن کسانوں سے ملنے کے لیے نہیں جاتے۔ کسانوں، خواتین، دلتوں، مزدوروں پر جو حملہ ہو رہا ہے، اسے روکنے کے لیے میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ کود پڑیے، ایک نئی تحریک شروع ہونے والی ہے۔ آزادی کے لیے جو تحریک چلی تھی، ویسی ہی تحریک کھڑی ہونے والی ہے۔ وہ سبھی لوگ جو اس ملک کو بچانا چاہتے ہیں، ان سب سے اپیل ہے کہ یہ بہت ہی مشکل وقت ہے، اس لیے کانگریس کے ساتھ جڑیے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔