کروڑوں نوجوان سمجھ گئے ہیں کہ کانگریس کو نہیں بچایا گیا تو ملک نہیں بچے گا: کنہیا کمار

کنہیا کمار نے کانگریس میں شامل ہونے کے بعد کہا کہ ’’ہم کانگریس میں اس لیے شامل ہوئے ہیں کیونکہ کانگریس گاندھی کی وراثت کو لے کر آگے چلے گی۔‘‘

تصویر ویپن/قومی آواز
تصویر ویپن/قومی آواز
user

تنویر

راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد آج کنہیا کمار اور جگنیش میوانی نے کانگریس کو مضبوط کرنے اور ملک مخالف طاقتوں سے لڑنے کا عزم ظاہر کیا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران کنہیا کمار نے کانگریس کی رکنیت اختیار کی اور اس کے بعد میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’اس ملک کے لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کو یہ سمجھ میں آ گیا ہے کہ اگر کانگریس نہیں بچی تو ملک نہیں بچے گا۔ ہم کانگریس میں اس لیے شامل ہوئے ہیں کیونکہ کانگریس گاندھی کی وراثت کو لے کر آگے چلے گی۔ میں کانگریس میں اس لیے شامل ہو رہا ہوں کیونکہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں کچھ لوگ صرف لوگ نہیں ہیں بلکہ ایک سوچ ہیں۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ ’’کچھ شخصیتیں ایسی ہیں جو ملک کے اقتدار پر نہ صرف قابض ہوئے ہیں، بلکہ فکر کی روایت، ثقافت، اقدار، تاریخ، مستقبل کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آج ملک 1945 سے پہلے کی حالت میں چلا گیا ہے۔ کانگریس وہ پارٹی ہے جو گاندھی، نہرو، بھگت سنگھ، مولانا آزاد کے نظریات کو آگے لے کر چلتی ہے۔ یہ ملک کی سب سے پرانی پارٹی ہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کو نہیں بچایا گیا تو چھوٹی چھوٹی کشتیاں بھی نہیں بچیں گی۔ ہم نے کانگریس کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ملک کی سب سے جمہوری پارٹی ہے۔‘‘


کنہیا کمار نے اپنے خطاب کے دوران آر ایس ایس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے اس کا نام لیے بغیر کہا کہ ’’یہ کیسی فیملی ہے جو گھر پریوار کو ہی چھوڑ دیتی ہے۔ ہمیں گھر پریوار کے ساتھ رہ کر ہی جدوجہد کرنا ہے۔ ملک میں نظریاتی جدوجہد کی قیادت کانگریس ہی کر سکتی ہے۔ کچھ لوگ ملک کا مستقبل خراب کرنا چاہتی ہیں۔ اپوزیشن کمزور ہوتا ہے تو اقتدار تاناشاہ ہو جاتا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 28 Sep 2021, 7:12 PM