مولانا آزاد کی ہزاروں بیش قیمتی کتابیں دھول کی نذر، آئی سی سی آر کا مایوس کن قدم

انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر) کے ہیڈ کوارٹر کا ایک سیکشن ’گوشہ آزاد‘ آزادی کے سب سے بڑے مجاہد اور ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی یاد میں وقف تھا۔

حسن آرا
حسن آرا
user

محمد عاصم خان

مولانا آزاد کی طرف سے آئی سی سی آر کو تحفے میں دی گئی تقریباً 10,000 کتابیں اور مخطوطات ایک اچھے میزبان کی تلاش میں ہیں۔ آئی سی سی آر کے چیئرمین اور بی جے پی سے راجیہ سبھا کے رکن ونے سہسرا بدھے ان خبروں کی تردید کرتے ہیں کہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے منسوب لائبریری کو بند کیا جا رہا ہے، لیکن وہ یقین سے بہت دور لگتا ہے۔ سہرس بدھے نے ’نیشنل ہیرالڈ سے باتے کرتے ہوئے بتایا کہ ’’لائبریری وہیں پر ہے، اسے صرف دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔‘‘

راقم الحروف نے جب لائبریری کا دورہ کیا تو وہاں کے عملے کے رکن نے لائبریری بند ہونے کی بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں مولانا آزاد کے نام سے منسوب لائبریری بند کردی گئی ہے، اور کتابیں مختلف لائبریریوں اور اداروں کو دی جارہی ہیں۔‘‘ بی جے پی کے دور میں یہ کوئی نیا قدم نہیں ہے بلکہ اس سے قبل نہرو لائبریری کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کیا گیا تھا۔


انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر) کے ہیڈ کوارٹر کے ایک سیکشن ’گوشہ آزاد‘ آزادی کے سب سے بڑے مجاہد اور ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی یاد میں وقف تھا۔ ’گوشہ‘، ایک اردو لفظ ہے، جس کا لفظی ترجمہ ہے ’’کونا‘‘۔ گوشہ آزاد کے پاس نایاب کتابوں اور مخطوطات کا ایک مجموعہ ہے، جن میں سے 10,000 سے زیادہ، مولانا آزاد نے ICCR کو تحفے میں دیئے ہیں۔ ان کے ذاتی ذخیرے میں عربی، اردو اور فارسی زبانوں کے 197 نادر نسخے شامل تھے۔ آئی سی سی آر کے ایک کونے میں ان پر خاک جمع ہو رہی ہے۔

مولانا آزاد کی نواسی، حسن آرا کہتی ہیں کہ لائبریری کے حالیہ دورے کے دوران کتابوں کو اتنی لاپرواہی سے رکھا ہوا دیکھ کر انہیں "درد" ہوا۔ "کتابوں کا یہ مجموعہ ہمارے لیے ایک جذباتی قدر رکھتا ہے۔ اگر آئی سی سی آر اسے نہیں رکھ سکتا اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم اسے واپس لینے کے لیے تیار ہیں،‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا۔


حسن آرا نے مزید بتایا کہ"میں نے حال ہی میں ICCR کا دورہ کیا اور دیکھا کہ انہوں نے وہاں سے مولانا کی تصویر ہٹا دی ہے۔ پھر میں نے گوشہ آزاد کو دیکھا جہاں کتابوں پر صرف خاک جمع ہو رہی تھی اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ میں نے آئی سی سی آر کے مختلف عہدیداروں سے بات کی اور محسوس کیا کہ وہ کسی طرح اس لائبریری اور کتابوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں،‘‘

آئی سی سی آر کے ایک عملے نے بتایا کہ مخطوطات کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے اور آئی سی سی آر کی ویب سائٹ پر ان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر کتابوں اور دستاویزات وغیرہ کو ڈیجیٹائز کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ لائبریری کی رکنیت اب نہیں دی جا رہی ہے لیکن "دلچسپی رکھنے والے لوگ سیکشن انچارج سے اجازت لے کر کتابوں اور مخطوطات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں"۔ اس طرح کی رسائی سے ہر کسی کو سکون محسوس نہیں ہوتا۔ ایک ریسرچ اسکالر نے کہا کہ ’’کتابوں کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی اور اس کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔