چائے سے گرم کیتلی کے آنسو!... اعظم شہاب

زرعی قوانین کی واپسی پر گودی میڈیا کے اینکروں اور بھگتوں کی قابلِ رحم حالت دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے اور عبرت بھی۔

میڈیا، علامتی تصویر آئی اے این ایس
میڈیا، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

زرعی قوانین کی واپسی کا سب سے دلچسپ پہلو تو پردھان سیوک کا تپسیا والا وہ بیان تھا جس میں انہوں نے کہا کہ ہماری تپسیا میں کوئی کمی رہ گئی تھی کہ ہم کچھ کسانوں کو زرعی قوانین کے فائدے نہیں سمجھا سکے۔ لیکن اس سے زیادہ دلچسپ گودی میڈیا اور بھگتوں کی وہ جھنجھلاہٹ ہے جو مختلف ذرائع سے ابل ابل کر باہر آجا رہی ہے۔ یہ بیچارے ایسے اپنے بال نوچ رہے ہیں گویا کسی کمبھ میلے میں ان کے پتاشری سے ان کا ہاتھ چھوٹ گیا ہے اور وہ بھیڑ میں یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ اب کدھرجائیں۔ اس لئے کبھی وہ اسے پردھان سیوک کا ماسٹر اسٹروک قرار دے رہے ہیں تو کبھی ’پہلے ملک بعد میں کسان‘ کی تھیوری پیش کر رہے ہیں۔ کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ وقتی طور پر یہ قوانین واپس ہوئے ہیں لیکن بہت جلد پھر آجائیں گے۔ گویا ہر کوئی اپنے اپنے طور پر اس کی توضیح پیش کر رہا ہے۔ ان کی یہ جھنجھلاہٹ دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے اورعبرت بھی حاصل ہوتی ہے۔ عقل، ظرف اور ضمیر کو گروی رکھ دینے سے آدمی کس طرح کی کیفیت کا شکار ہوجاتا ہے؟ یہ اس کے جیتے جاگتے نمونے ہیں۔

پردھان سیوک نے جب تک زرعی قوانین کی واپسی کا اعلان نہیں کیا تھا اس وقت تک تو یہ بیچارے ہرممکنہ طریقے سے اس کے کسانوں کے مفاد میں ہونے کی دلیلیں پیش کیا کرتے تھے۔ وہ یہ بتاتے نہیں تھکتے تھے کہ اس سے ملک کے زرعی سیکٹر میں انقلاب آجائے گا اور کسانوں کی آمدنی دوگنی ہوجائے گی۔ گودی میڈیا کے ’بھیشم پتامہ‘ سمجھے جانے والے صحافی تو اسے مودی جی کا وہ ماسٹراسٹروک قراردے رہے ہیں جس نے ایک ہی جھٹکے میں اپوزیشن کے حملے کی ہوانکل دی ہے۔ یہی صاحب تھے جو کسانوں کو یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ کچھ دنوں کے لئے اس قانون کو لاگو ہوجانے دیں، اگر اس سے کسانوں کا فائدہ ہو تو اسے جاری رکھیں ورنہ بعد میں احتجاج کریں۔ گویا وہ کوئی فریز یا واشنگ مشین بیچ رہے تھے کہ لے جائیے اگر پسند آئے تو ٹھیک ورنہ پھر واپس کرنے کے لئے ہمارے پاس آئیے۔ اسی طرح سے ایک اور صاحب تھے جو ہمیشہ ڈی این اے کرتے رہتے ہیں۔ وہ کسانوں کے احتجاج کو راست طور پر خالصتانیوں کا احتجاج قرار دیتے رہے۔ لیکن قانون کی واپسی کے بعد گرے تو بھی ٹانگیں اوپر کی مانند ان کا موقف اب یہ ہے کہ یہ احتجاج زرعی قوانین کے خلاف نہیں تھا بلکہ مودی کے خلاف تھا اور اس کے پیچھے اپوزیشن تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی جی کے پیشِ نظر پہلے دیش ہے بعد میں کسان۔ سو انہوں نے پہلے دیش بچانے کی فکر کی ہے۔ غرض کہ طرح طرح سے اس کی خوبیاں بیان کی جاتی رہیں اور کسانوں کے احتجاج کی طرح طرح سے مخالفت کی جاتی رہی۔ لیکن اب ان بے چاروں کی حالت اس شخص کے جیسی ہوچکی ہے جو کافی مقدار میں کولڈڈرنک پی لے اور پھر آنے والی ڈکار کو روکنے کی کوشش کرے۔


ایک صاحب اینکر ہیں جو آج موٹے موٹے آنسوؤں سے رو رہے ہیں۔ انہیں پردھان سیوک کے ذریعے زرعی قوانین کی واپسی کے فیصلے کا کچھ اس قدر دکھ ہے کہ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف کئی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیں۔ اپنی ویڈیو میں وہ پردھان سیوک کے فیصلے کو غلط بتاتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کو یہ قوانین واپس ہی لینے تھے تو آپ نے ہم جیسوں کے بارے میں کیوں کچھ نہیں سوچا، جو رات دن ان قوانین کے فائدے کسانوں کو سمجھانے میں لگے رہے؟ جس کرب کے ساتھ وہ باتیں کرتے ہیں اسے دیکھ کر موصوف سے ہمدردی سی ہوجاتی ہے۔ اب ان جناب کو کون سمجھائے کہ جب آپ کے شریمان جی نے معافی مانگ لی ہے تو آپ بھی وہی کریں، لیکن ایسا کرنے کی صورت میں ان کی مٹی پلید ہوجائے گی اور وہ جو خود کو سچائی کا علمبردار بتاتے رہے ہیں، بھرے بازار میں اس کی قلعی اترجائے گی، سو وہ اب اپنا بخار پردھان سیوک پر اتار رہے ہیں۔

یہاں پر کچھ فلم وکرکٹ سے جڑے سلیبریٹز کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا جو کسانوں کے احتجاج کے ابتدائی دنوں میں انہیں Amicable(دوستانہ) مصالحت کا مشورہ دے رہے تھے۔ ان سلیبریٹیز میں وراٹ کوہلی، سریش رینا، سائنا نہوال، اکشے کمار، لتا منگیشکر اور انل کمبلے جیسے لوگ شامل تھے جن کے بہ یک وقت کئے گئے ٹوئٹ میں Amicable کے لفظ کا یکساں استعمال ہوا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انہیں کسی ایک ہی شخص نے تحریر لکھ کر دی تھی جو انہیں ٹوئٹ کرنا تھا، سو انہوں نے کردیا تھا۔ اب ان کے لئے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ زرعی قوانین کی واپسی کے بعد کس ردعمل کا اظہار کریں۔ مہاراشٹر کانگریس کے سینئر لیڈر سچن ساونت نے تو ان تمام سلیبریٹز کے ٹوئٹ کو یکجا کرکے ان سے سوا ل تک کرلیا ہے کہ کیا آپ کسانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی کوئی ٹوئٹ کریں گے؟ اب ظاہر ہے کہ جہاں سب کچھ ریموٹ کنٹرول سے چلتا رہا ہو وہاں سے بھلا کیا جواب آسکتا ہے؟ سو خاموشی ہر سوال کا جواب ہے۔


لیکن سب سے زیادہ قابلِ رحم حالت گودی میڈیا کے ان اینکروں کی ہے جو رات دن زرعی قوانین کے فائدے گنوا رہے تھے۔اب انہیں ان قوانین کی واپسی کے فائدے بیان کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ یعنی اب انہیں یہ بتانا ہے کہ یہ قوانین کیوں واپس لئے گئے اور اس میں ملک وقوم کا مفاد کس طرح پوشیدہ ہے۔ ایک اینکر صاحب نے راکیش ٹکیت سے ایک انٹرویو اس بات پر کرلیا کہ آپ نے یہ کیوں کہہ دیا کہ مودی جی کی باتوں پر آپ کو بھروسہ نہیں ہے۔ اس انٹرویو کی شروعات انہوں نے جس طرح کی اس سے ان کے اندر کے درد کو چھلکا دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیش کے 73فیصد عوام جب مودی پر بھروسہ کرتی ہے تو آپ کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موصوف نے یہ کہاں سے ناپ لیا؟ اور اگر ملک کی 73 فیصد عوام مودی پر بھروسہ کرتی ہے تو کیا کسان ان 73 فیصد سے علاحدہ ہیں؟ یعنی کسی نہ کسی طریقے سے مودی کی امیج کو خراب ہونے سے بچانا ہی ان کی ذمہ داری ہے۔ اب بھلا انہیں یہ کون سمجھائے کہ مودی کو اگر 73 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہوتی تو وہ کسی طور زرعی قوانین واپس نہیں لیتے۔ غرض کہ زرعی قوانین کی واپسی کے بعد چائے سے زیادہ ان کیتلیوں کی آنسو گرم ہوچکے ہیں۔ اب ان کی حالت پر رحم کھانے کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔