منریگا ختم کر مزدوروں کے حقوق پر ہو رہا حملہ، کانگریس نے 4 پوائنٹس میں سامنے رکھی حقیقت
کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے منریگا کو ختم کر نہ صرف مزدوروں سے کام کا حق چھین لیا ہے، بلکہ کم از کم مزدوری کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی گرام پنچایتوں کو بھی درکنار کر دیا گیا ہے۔

کانگریس نے ’منریگا‘ کا نام بدل کر ’جی رام جی‘ رکھنے اور اصولوں میں کئی تبدیلیاں کیے جانے کے خلاف ملک گیر مہم شروع کر دی ہے۔ ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ 10 جنوری سے 25 فروری تک جاری رکھنے کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے، ساتھ ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لگاتار پوسٹ جاری کر منریگا کی خوبی اور ’جی رام جی‘ کی خامیوں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ کانگریس نے آج بھی اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر مختلف پوسٹس کے ذریعہ 4 پوائنٹس میں منریگا و جی رام جی کا موازنہ کرتے ہوئے حقیقت سامنے رکھ دی ہے۔
کانگریس نے منریگا میں تبدیلی کو مزدوروں کے حقوق پر سخت حملہ قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے منریگا کو ختم کر نہ صرف مزدوروں سے کام کا حق چھین لیا ہے، بلکہ اس عمل سے کم از کم مزدوری کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی گرام پنچایتوں کو بھی درکنار کر دیا گیا ہے اور ریاستی حکومتوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے۔ کانگریس نے خاص طور سے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں منریگا پر ’4 حملوں‘ کا ذکر کیا ہے جس کی تفصیل ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔
پہلا حملہ: ’کام کا حق‘ چھینا
کانگریس نے پہلے حملہ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت نے ’کام کا حق چھین‘ لیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ منریگا میں ہر کنبہ کو کم از کم 100 دنوں کے کام کی قانونی گارنٹی کے ساتھ ساتھ ہر گاؤں میں کام کی قانونی گارنٹی ملتی تھی۔ لیکن مودی حکومت کے ذریعہ قانون میں تبدیلی کیے جانے کے بعد عوام کے پاس کوئی قانونی گارنٹی نہیں رہے گی۔ لوگوں کو کام کام صرف مودی حکومت کے ذریعہ منتخب کیے گئے گاؤں میں ہی ملے گا۔
دوسرا حملہ: ’کم از کم مزدوری کا حق‘ چھینا
کانگریس نے بتایا کہ منریگا میں عوام پورے سال کام کا مطالبہ کر سکتے تھے۔ انھیں قانونی طور پر کم از کم مزدوری کی گارنٹی دی گئی تھی۔ اب مودی حکومت کے فیصلے سے فصل کٹائی کے موسم میں مزدوروں کو کام نہیں ملے گا۔ اتنا ہی نہیں، مزدوروں کے لیے مزدوری حکومت اپنی مرضی سے طے کرے گی۔
تیسرا حملہ: ’گرام پنچایت‘ کو درکنار کیا
منریگا میں گرام پنچایت کے ذریعہ اپنے ہی گاؤں کی ترقی کے لیے مقامی لوگوں کو کام ملتا تھا۔ مزدوروں کو کام میں منریگا میٹ اور روزگار اسسٹنٹ کی مدد ملتی تھی۔ ’جی رام جی‘ قانون آنے سے اس میں بہت بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اب آپ کہاں اور کیا کام کریں گے، یہ حکومت طے کرے گی۔ اتنا ہی نہیں، اب آپ کو کسی میٹ یا روزگار اسسٹنٹ کی مدد نہیں ملے گی۔
چوتھا حملہ: ریاستوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی
منریگا میں مزدوروں کے لیے بطور مزدوری تقریباً 100 فیصد ادائیگی مرکزی حکومت کرتی تھی، اس لیے ریاستی حکومت بغیر کسی فکر یا مشکل کے آپ کو کام دستیاب کراتی تھی۔ اب ریاستی حکومتوں کو آپ کی مزدوری کا 40 فیصد حصہ خود دینا ہوگا۔ خرچ بچانے کے لیے ہو سکتا ہے ریاستی حکومتیں مزدوروں کو کام ہی نہ دیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔