گیان واپی مسجد کیس کی رپورٹ سول کورٹ نے ضلع جج کے حوالے کی، سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل

سپریم کورٹ نے جمعہ کو اپنے حکم میں ذیلی عدالت کے 16 مئی کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں مسجد کے ایک بڑے علاقے کو سیل کرنے اور صرف 20 نمازیوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا۔

گیان واپی مسجد، تصویر آئی اے این ایس
گیان واپی مسجد، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے وارانسی واقع گیان واپی مسجد معاملے میں سول کورٹ نے ضلع جج کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔ دراصل سپریم کورٹ نے جمعہ کو گیان واپی مسجد معاملے کو سول جج سے وارانسی کے ضلع جج کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ سپریم کورٹ نے ذیلی عدالت کو آرڈر 7 رول 11 معاملے کی سماعت 8 ہفتے میں پوری کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ نے کہا کہ وہ وارانسی دیوانی جج (سینئر ڈویژن) پر کوئی الزام نہیں لگا رہی ہے، بلکہ کیس کو مزید تجربہ کار ہاتھ میں دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ گیان واپی معاملے کی سماعت وارانسی ضلع سول جج روی کمار دیواکر کر رہے تھے۔ انہی کے حکم پر ہی اسپیشل کورٹ کمشنر وشال سنگھ، دوسرے کمشنر اجئے مشرا اور اجئے پرتاپ سنگھ کی ٹیم نے 14، 15 اور 16 مئی کو گیان واپی میں سروے ویڈیوگرافی کی تھی۔ اس کے بعد اپنی رپورٹ سونپی تھی۔


قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے جمعہ کو اپنے حکم میں ذیلی عدالت کے 16 مئی کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں مسجد کے ایک بڑے علاقے کو سیل کرنے اور صرف 20 نمازیوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 17 مئی کو اس حکم پر روک لگاتے ہوئے کہا تھا کہ صرف اس جگہ کو محفوظ کیا جائے گا جہاں شیولنگ ملنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ نمازیوں کے مسجد میں جانے یا نماز پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ کسی بھی تعداد میں نمازی مسجد میں جائیں گے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وارانسی ضلع جج اس بات پر سماعت کریں گے کہ ہندو فریقین کی عرضی سننے لائق ہے یا نہیں، اسے قبول کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔