ملک میں شروع ہوئی مذہبی اور نظریاتی محاذ آرائی کا مقابلہ ہتھیار سے ممکن نہیں: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند کی ایک میٹنگ میں کہا گیا کہ اگر ملک میں لاقانونیت بڑھتی رہی تو اس کی آگ میں نہ صرف اقلیتیں، دلت اور ملک کے کمزور عوام جلیں گے بلکہ ملک کی ساری ترقی اور نیک نامی بھی خاک میں مل جائے گی۔

مولانا سید ارشد مدنی، تصویر آئی اے این ایس
مولانا سید ارشد مدنی، تصویر آئی اے این ایس
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: ملک کے حالات خاص طور پر موب لنچنگ کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی محاذ آرائی اب شروع ہوئی ہے اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یا ٹکنالوجی سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس طرح کے حالات کے مقابلہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کر کے اس لائق بنا دیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کو شکست سے دو چار کر کے کامیابی اور کامرانی کی وہ منزلیں سر کر لیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طور پر محدود اور مشکل سے مشکل تر بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کر دیا، یہ افسوسناک صورتحال کیوں پیدا ہوئی اور اس کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں؟ اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے خود جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی، کیونکہ اگر انہیں تعلیم سے رغبت نہ ہوتی تو وہ مدارس کیوں قائم کرتے؟


مولانا مدنی نے کہا کہ ہم ایک بار پھر اپنی یہ بات دہرانا چاہیں گے کہ مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ ہمیں ایسے اسکولوں اور کالجوں کی اشد ضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اور خاص کر بچیاں اعلیٰ دنیاوی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج ارتداد کی مہم ہے جس کی وجہ سے مسلم لڑکیوں کے ارتداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اوراس حوالے سے منظم شکل میں فرقہ پرست عناصر غیر مسلم نوجوانوں کو مسلم بچیوں کو ورغلانے کے لیے نہ صرف ہر طرح کی مدد فراہم کر رہے ہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال پر اگر بروقت قدغن نہ لگائی گئی تو آنے والے دن انتہائی خطرناک ہوں گے۔

مولانا نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی اس مسئلے پر غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دینی تعلیمات سے بے زاری اس کا بنیادی سبب ہے اس لئے جمعیۃ علماء ہند بااثر اور دولت مند لوگوں سے اپیل کرتی ہے وہ اپنے اپنے علاقوں میں لڑکیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ اسکول اور کالج کا انتظام کریں، اپنی بہو بیٹیوں کی عزت و آبرو اور ایمان کی حفاظت کے لئے یہ اس وقت کی شدید ضرورت ہے۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ بے حیائی اور فحاشی کسی مذہب کا شیوہ نہیں ہے، دنیا کے ہر مذہب میں اسے برا سمجھا گیا ہے۔ اس لئے کہ ان سے ہی معاشرہ میں بے راہ روی پھیلتی ہے، اس لئے ہم اپنے غیر مسلم بھائیوں سے بھی یہ گزارش کریں گے کہ وہ اپنی بچیوں کو بے حیائی اور بے راہ روی سے دور رکھنے کے لیے مخلوط تعلیم دلانے سے گریز کریں اوران کے لئے الگ سے تعلیمی ادارے قائم کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے حالات میں ہمیں اچھے مدرسوں کی بھی ضرورت ہے اور اچھے اعلیٰ دنیاوی تعلیمی اداروں کی بھی جن میں قوم کے ان غریب مگر ذہین بچوں کو بھی تعلیم کے یکساں مواقع فراہم ہو سکیں۔ جن کے والدین تعلیم کا خرچ اٹھا پانے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے آگے کہا کہ قوموں کی زندگی میں گھر بیٹھے انقلاب نہیں آتے بلکہ اس کے لئے عملی طور پر کوشش کی جاتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔


جمعیۃ علماء ہند کے اس اجلاس میں ہجومی تشدد اور ماب لنچنگ پر اپنی گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک جمہوری ملک میں عوام کا قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینا اور حکومت کا اس لاقانونیت پر خاموش تماشائی بنا رہنا یہ ایسا رویہ ہے جو ملک کو انتشار اور خانہ جنگی کی طرف لے جارہا ہے، اگر ملک میں یہ لاقانونیت یوں ہی بڑھتی رہی تو اس کی آگ میں نہ صرف اقلیتیں، دلت اور ملک کے کمزور عوام ہی نہیں جلیں گے بلکہ ملک کی ساری ترقی اور نیک نامی بھی خاک میں مل جائے گی، اس لئے ہر محب وطن کا ملک سے محبت کا یہ تقاضہ ہے کہ مذہب ونسل سے بلند ہو کر مسلم اورغیر مسلم متحد ہو کر اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ مولانا مدنی نے ماب لنچنگ کے حوالہ سے دعوی کیا کہ یہ سب کچھ منصوبہ بند طریقہ سے ہو رہا ہے اور اس کا مقصد مذہبی شدت پسندی کو ہوا دے کر اقلیت کے خلاف اکثریت کو متحد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں اچانک اس وقت شدت آ جاتی ہے جب کسی ریاست میں الیکشن ہونے والا ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ اپنی ساکھ اور ملک کی قدیم تہذیب اور ثقافت کی حفاظت کے لیے اس کے خلاف عملی میدان میں کام کرے اورکہا کہ ماب لنچنگ کے واقعات سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے بعد بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اس کا صاف مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں انہیں سیاسی تحفظ اور پشت پناہی حا صل ہے؟ اسی لئے ان کے حوصلے بلند ہیں، اس لئے تمام سیاسی پارٹیاں خاص کر وہ پارٹیاں جو اپنے آپ کو سیکولر کہتی ہیں میدان عمل میں کھل کر سامنے آئیں اور اس کے خلاف قانون سازی کے لئے عملی اقدامات کریں صرف مذمتی بیان کافی نہیں۔

اجلاس میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہارکیا گیا کہ ان دنوں آسام میں ایک سازش کی تحت خالص مسلم آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور جو بستیاں پچاس برس سے زیادہ سے سرکاری زمین پرآباد ہے ان کو جبراً خالی کرایا جارہا ہے اور ان کے مکانا ت منہدم کئے جارہے ہیں ایسے خانہ برباد لوگوں کو بسنے کے لئے کوئی متبادل جگہ بھی نہیں بتائی جارہی ہے، مجلس عاملہ نے طے کیا ہے کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر ان حالات سے نمٹنے کے لئے اگر مفید ہو تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔


دوران اجلاس مولانا حلیم اللہ ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے کوکن مہاراشٹر کے سیلاب میں جمعیۃ علماء کی اب تک کی خدمات کی مکمل تفصیل پیش کی۔ سیلاب متاثرین کی باز آبادکاری کے لئے اپنی یونٹیوں کے تعاون سے فی الحال مرکز کے علاوہ ایک کروڑدس لاکھ روپے سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی امداد کرنا طے کیا۔ اجلاس میں ورکنگ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی ہے اصلاح معاشرہ کی کوششوں کومنظم طریقہ سے پورے ملک میں پھیلادی جائے، دیہاتوں میں اور شہروں کے سلم علاقوں میں جہاں سے ایسے واقعات بکثرت سننے میں آتے ہیں وہاں خصوصی توجہ دی جائے، اہل مدارس کو بھی ایک تحریر لکھ کر متوجہ کیا جائے اور اکابرعلماء کے اسفارکا نظام بنایا جائے اس کے لئے سردست دس لاکھ روپے کا بجٹ مختص کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں دہلی فسادات میں بے قصورمسلم نوجوانوں پر کئے گئے 137 مقدمات کی پیروی اور پیش رفت پر غور کیا گیا، ابھی تک جمعیۃ کے تعاون سے 90ضمانتیں ہو چکی ہیں اور باقی کیسوں کی ضمانت کی اپیل سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں داخل ہے، ان مقدمات کی پیروی جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ایڈوکیٹ ظہیرالدین بابر چوہان کی سربراہی میں وکلاء کی ایک ٹیم کررہی ہے۔ اجلاس میں صدرمحترم کے علاوہ مفتی سید معصوم ثاقب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند، مولانا عبدالعلیم فاروقی نائب صدر جمعیۃ علماء ہند، مولانا سید اسجد مدنی، مولانا عبدالرشید قاسمی، مولانا عبداللہ ناصر قاسمی، مولانا اشہد رشیدی، مفتی غیاث الدین اور الحاج سلامت اللہ۔ اجلاس میں جن مدعوئین خصوصی نے شرکت کی ان کے نام یہ ہیں مولانا محمد مسلم قاسمی، مولانا حلیم اللہ قاسمی بھونڈی، مولانا محمد خالد قاسمی، مولانا عبدالقیوم قاسمی، مفتی عبدالرازق مظاہری، مولانا بدراحمد مجیبی، مولانا محمد راشد قاسمی، مولانا شمس الدین قاسمی، مفتی اشفاق احمد وغیرہ نے شرکت کی۔


واضح رہے کہ آج مرکزی دفتر میں جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس میں ملک کے موجودہ حالات اور قانون و انتظام کی بدتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور ساتھ ہی دوسرے اہم ملی اور سماجی ایشوز اور لڑکے و لڑکیوں کے لئے اسکول و کالج کا قیام اور خاص طور پر لڑکیوں کے لئے دینی ماحول میں علیحدہ تعلیمی ادارے کا قیام و اصلاح معاشرہ کے طریقہ کار پر تفصیل سے غور و خوض ہوا۔ اس اجلا س میں ممبران نے تمام مسائل پر کھل کر تبادلۂ خیال کیا۔ لاک ڈاؤن میں جمعیۃ علماء ہند کی بے لوث خدمات، ریلیف و باز آبادکاری اور ملزمین کی قانونی اورسماجی مدد، تبلیغی جماعت پر منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی قانونی جد و جہد وغیرہ کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں جمعیۃ کی طرف نئے لوگوں کا رجحان بڑھا ہے، جس کی وجہ سے جمعیۃ کی ممبرشپ حاصل کرنے کے لئے لوگ بہت زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں اور ہر صوبے میں جمعیۃ دفاتر سے نئے لوگوں کی ایک معتدبہ تعداد مستقل رابطے میں ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے ٹرم میں جمعیۃ کے ممبران کی تعداد تقریباً ایک کڑوڑ پندرہ لاکھ تھی جبکہ اس سال اس تعداد میں اضافے کے قوی امکانات ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس ٹرم کی ممبر سازی کی مدت میں 15 اکتوبرتک کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔