دہلی فسادات: عدالت ادھوری جانچ کی بنیاد پر چارج شیٹ داخل کیے جانے سے ناراض

دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے دہلی فسادات معاملہ میں پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آدھی ادھوری جانچ کی بنیاد پر چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

دہلی فسادات کے تعلق سے دہلی پولیس کی کارروائی پر کئی بار انگلیاں اٹھ چکی ہیں، اور اب عدالت نے بھی دہلی پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کے ایشو پر گزشتہ سال دہلی میں ہوئے احتجاجی مظاہرہ اور فسادات کو لے کر دہلی پولیس کی چارج شیٹ پر دہلی کی ذیلی عدالت کڑکڑڈوما کورٹ نے سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ عدالت نے اپنے تبصرہ میں کہا ہے کہ آدھی ادھوری چارج شیٹ داخل کرنے کے بعد پولیس شاید ہی جانچ کو مدلل انجام تک لے جانے کی پروا کرتی ہے، جس کی وجہ سے کئی معاملوں میں نامزد ملزم جیلوں میں بند رہتے ہیں۔

دہلی فسادات کے تعلق سے دہلی پولیس کی جانچ کی سطح بے حد خراب رہی ہے اور اس بارے میں کئی سماجی کارکنوں نے بھی آواز اٹھائی ہے۔ اس تعلق سے کڑکڑڈوما کورٹ نے سماعت کے دوران جو بیان دیا ہے اس میں واضح لفظوں میں کہا ہے کہ دہلی پولیس آدھی ادھوری جانچ کی بنیاد پر فرد جرم (چارج شیٹ) داخل کر رہی ہے۔


قابل ذکر بات یہ ہے کہ عدالت نے جس معاملے میں اپنا یہ رد عمل ظاہر کیا ہے، اس کیس میں شکایت دہندہ ایک پولیس والا ہی ہے، جس نے ایسڈ سے حملے کی بات کہی تھی، لیکن پولیس نے اپنی جانچ میں اس ایسڈ کی فورنسک جانچ تک نہیں کروائی۔ عدالت نے حقیقت حال سے واقف ہونے کے بعد کہا کہ دہلی پولیس کے کمشنر اور ڈی سی پی ان معاملوں کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ کئی بار ہوتا ہے کہ دہلی پولیس چارج شیٹ کی پی ڈی ایف فائل بھیج دیتی ہے اور دہلی پولیس کے وکیل کو اس چارٹ شیٹ کے بارے میں زیادہ جانکاری تک نہیں ہوتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔