وزیر خارجہ نے جسے ’دلال ملک‘ بتایا تھا وہی آج امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے: جے رام رمیش

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہندوستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی اور طریقۂ کار میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے لیے وزیر اعظم مودی بالکل بھی اہل نہیں ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp;&nbsp;INCIndia@</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی پر ایک بار پھر سوال کھڑا کیا ہے۔ پیر (20 اپریل) کو کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کی۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’’بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور ہمیشہ بہترین لباس میں ملبوس وزیر خارجہ جسے دلال ملک بتایا تھا، وہی آج امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے، ایسی خبریں ہیں۔‘‘

جے رام رمیش کے مطابق 12 اپریل کو امن مذاکرات کے پہلے دور کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان نے سعودی عرب اور قطر سے 6 ارب ڈالر قرض لیے، تاکہ متحدہ عرب امارات سے لیے گئے 3.5 ارب ڈالر کے قرض کو ادا کر سکے اور 1.43 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ایک قسط کی ادائیگی کی جا سکے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’پاکستان کی معیشت واضح طور پر شدید بحران کی زد میں ہے اور وہ دوست ممالک کے ذریعہ دی جانے والی امداد پر منحصر ہے۔ لیکن فی الحال وہ ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اس نے اسامہ بن لادن اور دیگر دہشت گردوں کو پناہ دی، افغانستان میں منشیات کی بحالی کے مراکز پر بمباری کی اور حال ہی میں ایک سال قبل پہلگام دہشت گردانہ حملے کی سازش رچی۔‘‘


کانگریس لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’یہ مکمل طور پر واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی سفارت کاری کا انداز اور بیانیہ مینجمنٹ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ اسے ایک بالکل نئی پہچان مل گئی ہے، جو نومبر 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ذریعہ حاصل کردہ صورتحال سے بالکل برعکس ہے۔‘‘ جے رام رمیش کے مطابق یہ ہندوستان کے لیے خاص طور پر بڑا جھٹکا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر جس کی اشتعال انگیز بیانوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملوں کو ہوا دی اب ٹرمپ کا پسندیدہ بن گیا ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید لکھا کہ ’’یہ بھی واضح ہے کہ فیلڈ مارشل اور اس کے ساتھیوں نے ٹرمپ کے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے ایکوسسٹم کو سنبھالنے میں ہندوستان کے بالمقابل کہیں زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق یہ بھی وزیر اعظم مودی کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ ہندوستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی اور طریقۂ کار میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے لیے وزیر اعظم مودی بالکل بھی اہل نہیں ہیں۔