گنّا کسانوں کا بقایہ فوری طور پر ادا کرے حکومت: دانش علی

دانش علی نے کہا کہ آج جب پورا ملک کورونا بحران کا شکار ہے جس میں کسان اور مزدور طبقہ اس بحران کا سب سے زیادہ شکار ہے، ان کی حکومت سے اپیل ہے کہ وہ گنّے کے کاشتکاروں کے واجبات کو فوری طور پر ادا کرے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے رہنما اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ کنور دانش علی نے کسانوں کے مفادات کا دم بھرنے والی مرکزی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت حقیقت میں کسانوں کو خود انحصار کرنا چاہتی ہے تو گنّے کے کاشتکاروں کے بقائے کی ادائیگی فوری طور پر کرے۔

امروہہ کے رکن پارلیمنٹ دانش علی نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گنّے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی کے بارے میں مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں، لیکن حکومت اس سے لاعلم ہے۔ حکومت صرف تقریروں میں کسان کے مفادات کی بات کرتی ہے، جبکہ زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں بھی انہوں نے امروہہ لوک سبھا حلقہ کے گنّے کے کاشتکاروں کے بقائے کی ادائیگی کے سلسلے میں حکومت سے سوال پوچھا تھا، جس کے بعد حکومت نے کچھ ادائیگی کی تھی۔ حکومت نے لوک سبھا میں قبول کیا تھا کہ آج بھی امروہہ ضلع کے کسانوں کی بڑی رقم شوگر ملوں پر بقایہ ہے۔ دانش علی نے بتایا کہ ضلع امروہہ میں صرف 44 فیصد گنے کا بقایہ ہے جو کہ تقریباً 485 کروڑ روپے مالیت کے گنے کی ادائیگی گنّا ملوں پر باقی ہے۔

دانش علی کی لوک سبھا سیٹ امروہہ میں ہے، ضلع گڑھ مکھتیشور اسمبلی حلقہ جو ضلع ہاپوڑ میں آتا ہے، وہاں کی سمبھاولی چینی مل پر 86 فیصد جو کہ تقریباً 390 کروڑ روپئے ہے، گنا کسانوں کی ادائیگی بقایہ ہے۔ کُل ملاکر 875 کروڑ روپے ایک لوک سبھا حلقے میں گنا کسانوں کا بقایہ ہے۔ اتنی بڑی رقم کا بقایہ ہونا پورے اترپردیش اور ملک کے کسانوں کی کہانی بیان کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جب پورا ملک کورونا بحران کا شکار ہے جس میں کسان اور مزدور طبقہ اس بحران کا سب سے زیادہ شکار ہے، ان کی حکومت سے اپیل ہے کہ وہ گنّے کے کاشتکاروں کے واجبات کو فوری طور پر ادا کرے تاکہ انہیں راحت مل سکے۔ کسانوں کے واجبات وقت پر ادا کریں اور انہیں 'خود انحصار' رہنے دیا جائے۔

Published: 23 Jul 2020, 6:39 PM
next