راجستھان کا سیاسی بحران: سپریم کورٹ میں پیر کو ہوگی تفصیلی سماعت

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں سماعت کرے گا کہ کیا ہائی کورٹ ایوان کے اسپیکر کے نوٹس کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرسکتا ہے یا نہیں؟

سپریم کورٹ آف انڈیا فائل تصویر / Getty Images
سپریم کورٹ آف انڈیا فائل تصویر / Getty Images
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے راجستھان ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے متعلق ریاستی اسمبلی اسپیکر کی اپیل جمعرات کو ٹھکرا دی۔ حالانکہ عدالت نے یہ واضح کر دیا کہ کانگریس لیڈر سچن پائلت اور ان کے خیمے کے 18 ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کے معاملے میں ہائی کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ سپریم کورٹ کے آخری فیصلے پر منحصر کرے گا۔

جسٹس ارون کمار مشرا، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس کرشن موراری کی بنچ نے اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپِل سبل اور پائلٹ خیمے کی جانب سے پیش سینئر وکیل ہریش سالوے اور مکل روہتگی کی دلیلیں سننے کے بعد کہا کہ وہ اس معاملے میں پیر کو تفصیلی سماعت کرے گی۔ اس دوران ہائی کورت کے منگل کے حکم پر روک نہیں لگے گی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں سماعت کرے گا کہ کیا ہائی کورٹ ایوان کے اسپیکر کے نوٹس کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرسکتا ہے یا نہیں؟ بنچ اسپیکر کے اختیارات بنام عدالت کے دائرہ اختیار جیسے اہم سوال پر غور کرے گی۔ حالانکہ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ ہائی کورٹ کا 24 جولائی کا کوئی بھی فیصلہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے آخری فیصلے پر منحصر کرے گا۔

اسمبلی اسپیکر نے راجستھان ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں اس نے جمعہ تک سچن پائلت اور ان کے خیمے کے 18 اراکین کے خلاف کارروائی پر روک لگا دی ہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ اسمبلی اسپیکر کو سچن پائلٹ پر کارروائی کرنے سے نہیں روک سکتا۔ عدالت کا کل کا حکم عدلیہ اور مقننہ کے درمیان تنازعہ پیدا کرتا ہے۔

سماعت کی شروعات میں سبل نے اسمبلی اسپیکر کا موقف رکتھے ہوئے 1992 کے کیہوٹو ہولوہان معاملے میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے مطابق ارکان اسمبلی کی نااہلی کے مسئلے پر اسپیکر کا فیصلہ آنے سے پہلے عدالت دخل نہیں دے سکتی۔ نااہل ٹھہرانے کا عمل پورا ہونے سے پہلے عدالت میں دائر کوئی بھی عرضی سماعت کے قابل نہیں ہے۔

کپل سبل نے سپریم کورٹ کے ایک دیگر مسئلے میں حال ہی میں کیے گئے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں اسپیکر سے ایک مناسب وقت کے اندر فیصلہ کرنے کی اپیل کی گئی تھی، نہ کہ انہیں کوئی حکم دیا گیا تھا اور نہ ہی انہیں طے تاریخ پر نااہلی کا عمل پورا کرنے یا روکنے کے لئے کہا گیا تھا۔

اس پر جسٹس مشرا نے سبل سے پوچھا،’’اس معاملے میں ارکان اسمبلی کو کس بنیاد پر نااہل ٹھہرائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے؟ سابق وزیر قانون نے کہا کہ یہ ارکان اسمبلی پارٹی کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ وہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے انٹرویو دیا ہے کہ وہ فلور ٹیسٹ چاہتے ہیں۔ وہ ہریانہ کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی ایک الگ پارٹی بنانے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں اور ریاست کی موجودہ حکومت کو گرانا چاہتے ہیں۔‘‘ جسٹس مشرا نے ایک بار پھر سبل سے پوچھا، ’’پارٹی کے اندر جمہوریت پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا پارٹی کی میٹنگ میں حصہ لینے کے لئے وہپ جاری کیا جاسکتا ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Jul 2020, 3:35 PM
next