عثمانیہ اسپتال کی عمارت ثقافتی ورثہ ہے یا نہیں وضاحت کی جائے: تلنگانہ ہائی کورٹ

عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ یہ عمارت ہیرٹیج سائٹ (ثقافتی ورثہ) ہے یا نہیں ہے اس کی وضاحت کی جائے۔ حکومت نے اس پر کہا کہ اسپتال کی مرمت کے لئے پہلے ہی 6 کروڑ روپے کی رقم الاٹ کی گئی تھی۔

حیدرآباد میں واقع عثمانیہ اسپتال کی فائل تصویر / Getty Images
حیدرآباد میں واقع عثمانیہ اسپتال کی فائل تصویر / Getty Images
user

یو این آئی

حیدرآباد: حیدرآباد ہائی کورٹ نے شہر حیدرآباد کے عثمانیہ اسپتال کی نئی عمارت کی تعمیر اور قدیم عمارت کے انہدام کے سلسلہ میں داخل کردہ مفاد عامہ کی عرضیوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے حکومت سے عثمانیہ اسپتال کے حوالہ سے اہم سوالات کیے۔

عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ اسپتال کی قدیم عمارت کے انہدام کے مسئلہ پر متفرق رائے پائی جاتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ بعض افراد کی یہ رائے ہے کہ اس اسپتال کی قدیم عمارت کو منہدم کیا جائے تو بعض افراد کا یہ خیال ہے کہ اس قدیم عمارت کو منہدم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ثقافتی ورثہ کی حامل عمارت ہے۔

عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ یہ عمارت ہیرٹیج سائٹ (ثقافتی ورثہ) ہے یا نہیں ہے اس کی وضاحت کی جائے۔ حکومت نے اس پر کہا کہ اسپتال کی مرمت کے لئے پہلے ہی 6 کروڑ روپے کی رقم الاٹ کی گئی تھی۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے کہا کہ کاموں کی پیشرفت کے سلسلہ میں تفصیلات عدالت کو پیش کی جائیں گی۔

بعد ازاں اس معاملہ کی سماعت 4 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔ اسی دوران عدالت نے ریاست میں قانون حق تعلیم پر عمل نہ ہونے کا دعوی کرتے ہوئے داخل کردہ مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت بھی عدالت نے کی۔ 2015 سے اس مسئلہ پر کئی مفاد عامہ کی عرضیاں زیرالتوا ہیں۔ اس قانون پر عمل کے سلسلہ میں جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی عدالت نے حکومت کو ہدایت دی۔ ان عرضیوں کی سماعت11 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Jul 2020, 4:11 PM
پسندیدہ ترین
next