مودی حکومت ایسل گروپ کے سربراہ سبھاش گوئل کو تحفظ فراہم کر رہی ہے: کانگریس

کانگریس ترجمان پون کھیرا نے میں بتایا کہ سرکاری ملکیت والا اسٹیٹ بینک آف انڈیا سامنے آیا اور اس نے ’یس بینک‘ کو قرض سے بچانے کے لیے 11760 کروڑ روپے اس کے کھاتے میں ڈالا۔

 پون کھیرا، تصویر آئی اے این ایس
پون کھیرا، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے یہ واضح ہے کہ ایسل گروپ کے مالک، صنعت کار اور رکن پارلیمنٹ سبھاش چندر گوئل نے پرائیویٹ سیکٹر کے بینک ’یس بینک‘ کو ڈبانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور حکومت اب انہیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس ترجمان پون کھیرا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سرکاری ملکیت والا اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) سامنے آیا اور اس بینک نے یس بینک کو قرض سے بچانے کے لیے 11760 کروڑ روپے اس کے کھاتے میں ڈالا۔

پون کھیرا نے بتایا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ اس بینک میں اتنا پیسہ لگانے کے باوجود ایسل کے مالک اور بی جے پی کے حمایت یافتہ راجیہ سبھا ممبر سبھاش چندر گوئل کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ایس بی آئی اپنی انتظامیہ کو تعینات نہیں کر پا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران جب یس بینک کے ڈوبنے کی وجوہات کی چھان بین کی گئی تو تحقیقاتی ایجنسیوں نے بتایا کہ ایسل گروپ نے اس بینک کے ڈوبنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسل گروپ نے بینک سے 6789 کروڑ روپے کا قرض لیا لیکن یہ رقم بینک کو واپس نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے نجی شعبے کا یہ بینک خسارے میں چلا گیا اور اسے بچانے کے لیے حکومت نے عام لوگوں کا پیسہ لگایا۔


ترجمان نے الزام لگایا کہ گوئل مودی حکومت کے پسندیدہ ہیں اور وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بھی قریب ہیں۔ وہ یونین کو فنڈز دیتے رہے ہیں۔ اس لیے حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دے رہی ہے اور اس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے یس بینک میں کام کرنے کا حق پبلک سیکٹر کے بینک کے ایڈمنسٹریشن کو نہیں دیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔