مردم شماری کے دوسرے مرحلہ سے متعلق سوالات جاری ہونے میں ابھی وقت درکار، پارلیمنٹ میں حکومت نے کیا مطلع

نتیانند رائے نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ ’’مردم شماری کے دوسرے مرحلہ کے لیے سوالنامہ، جس میں ذات سے متعلق سوالات بھی شامل ہوں گے، مردم شماری شروع ہونے سے پہلے طے کر کے نوٹیفائی کیا جائے گا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مرکزی حکومت نے مردم شماری 2027 کے تحت ذات پر مبنی مردم شماری کے متعلق پیدا ہوئے تعطل کو ختم کر دیا ہے۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ مردم شماری کے دوسرے مرحلہ میں ذات سے متعلق معلومات جمع کی جائے گی۔ اس کے متعلق وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیانند رائے نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مردم شماری کے پہلے مرحلہ میں ہاؤس لسٹنگ آپریشن (ایچ ایل او) کا کام ختم ہوگا۔ اس کے تحت اس مرحلہ میں ہر گھر کی رہائشی حالت، جائیداد، سہولیات اور بنیادی ڈھانچے جیسی معلومات جمع کی جائیں گی۔

نتیانند رائے نے بتایا کہ حکومت نے مردم شماری کے پہلے مرحلہ سے متعلق سوالات 22 جنوری 2026 کو نوٹیفائی کر دیا ہے۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ آبادی کی گنتی (پی ای) کا ہوگا۔ اس میں ہر ایک شخص سے متعلق آبادیاتی، سماجی، معاشی، ثقافتی اور دیگر ذاتی معلومات لی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسی مرحلہ میں ذات پر مبنی مردم شماری بھی کی جائے گی۔


وزیر مملکت برائے داخلہ امور نے بتایا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے متعلق کئی ریاستوں اور تنظیموں سے مشورے اور مطالبات موصول ہوئے ہیں، جن میں تمل ناڈ ریاست کی جانب سے بھیجے گئے عرضداشت بھی شامل ہیں۔ نتیانند رائے نے ان مطالبات اور ذات پر مبنی مردم شماری کے متعلق پیدا ہونے والے تعطل کو دور کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے مرحلہ کے لیے سوالنامہ، جس میں ذات سے متعلق سوالات بھی شامل ہوں گے، مردم شماری شروع ہونے سے پہلے طے کر کے نوٹیفائی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورا عمل طے شدہ قواعد اور مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ طویل عرصہ سے ذات پر مبنی مردم شماری کے متعلق ملک میں سیاسی اور سماجی بحث چل رہی تھی، کیونکہ ذات پر مبنی مردم شماری کے سلسلے میں پالیسی اور تکنیکی میکانزم اب تک حتمی طور پر سامنے نہیں آئی تھی۔ ماہرین اور عدلیہ نے بھی کہا تھا کہ ڈیٹا کی تصدیق اور قابل اعتماد رپورٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے اضافی جانچ پڑتال کے طریقے بنانے ہوں گے۔


بہرحال مردم شماری 2027 میں ذات کو شامل کرنے کی تصدیق کو ایک اہم پالیسی پر مبنی قدم مانا جا رہا ہے۔ اس سے مستقبل کی فلاحی اسکیموں اور سماجی پالیسیوں کو سمت مل سکتی ہے۔ اب سب کی نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ دوسرے مرحلہ کے سوالنامے میں ذات سے متعلق سوال کس شکل میں پیش کیے جاتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 2027 کی مردم شماری 16ویں قومی سروے کے طور پر ہوگی۔ ہمالیائی اور برفیلے علاقوں میں پہلے مرحلہ کی گنتی یکم اکتوبر 2026 سے شروع ہوگی، جبکہ بقیہ ملک میں مرکزی گنتی یکم مارچ 2027 سے ریفرنس ڈیٹا کے ساتھ شروع ہوگی۔ یہ پورا عمل ڈیجیٹل طریقے سے کیا جائے گا، جس میں موبائل ایپ اور آن لائن پورٹل کے ذریعہ لوگوں کو اپنی معلومات درج کرنے کا اختیار ملے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔