سپریم کورٹ کی کمیٹی نے کی پہلی میٹنگ، 21 جنوری کو کسانوں سے ہوگی ملاقات!

انل گھنوٹ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ کسانوں کو بات چیت کے لیے رضامند کرنا ضروری ہے کیونکہ انھوں نے کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کی بات کہی ہے۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
user

تنویر

متنازعہ زرعی قوانین کو لے کر مودی حکومت اور کسانوں کے درمیان رخنہ اندازی جاری ہے۔ اس درمیان سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل کردہ کمیٹی نے آج پہلی میٹنگ کی جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ منگل کے روز نئی دہلی واقع پوسا کیمپس میں کمیٹی کے اراکین اشوک گلاٹی، انیل گھنوٹ اور پرمود جوشی نے میٹنگ کر کے آگے کے لائحہ عمل پر گفت و شنید کی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ 21 جنوری کو وہ کسان لیڈروں سے ملاقات کریں گے تاکہ ان کی رائے لی جا سکے۔

کمیٹی کی میٹنگ آج صبح 11.30 بجے شروع ہوئی تھی جو کہ تقریباً دو گھنٹے چلی۔ اس میٹنگ میں کمیٹی کے چوتھے رکن بھوپندر سنگھ مان شامل نہیں ہوئے کیونکہ انھوں نے پہلے ہی اس کمیٹی سے خود کو الگ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ میٹنگ کے بعد کمیٹی رکن انل گھنوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کمیٹی زراعتی قوانین کی مخالفت اور حمایت کرنے والے کسانوں اور کسان تنظیموں سے بات کرے گی۔ کمیٹی ریاستی حکومتوں، ریاستی منڈی بورڈ، کسان تنظیموں، کوآپریٹیو اور دیگر متعلقہ فریقوں سے بھی تبادلہ خیال کرے گی۔


انل گھنوٹ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ کسانوں کو بات چیت کے لیے رضامند کرنا ضروری ہے کیونکہ انھوں نے کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کی بات کہی ہے۔ گھنوٹ نے مزید کہا کہ وہ ایک ویب سائٹ تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ کسان نجی طور پر بھی اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔