جیت کی خوشبو سے کسان خوش لیکن محتاط، کہا ’ہم کچی فصل نہیں کاٹتے، ٹھوک بجا کر فیصلہ لیں گے‘

مظفر نگر واقع بھمّا گاؤں کے کسان لوکیندر گوجر کا کہنا ہے کہ آج صبح جب انھوں نے اپنے موبائل پر یہ خبر دیکھی تو انھیں یقین نہیں ہوا۔ کیونکہ بی جے پی کی اس حکومت کی شبیہ ضدی والی بنی ہوئی ہے۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ زرعی قوانین واپس لیے جانے کے بعد اس پر گاؤں گاؤں بحث ہو رہی ہے۔ آج صبح اس اعلان کے بعد کسانوں میں خوشی کا ماحول ہے۔ مغربی اتر پردیش کے کسانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے لڑائی کا پہلا محاذ جیت لیا ہے، لیکن لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ وہ کسان لیڈر راکیش ٹکیت کے پارلیمنٹ میں قانون رد ہونے کے بعد گھر واپسی کے فیصلے کی تعریف کر رہے ہیں۔ کسان کہہ رہے ہیں کہ بغیر پکّی لکھا پڑھی کے گھر واپس لوٹنا ٹھیک نہیں ہے۔

مظفر نگر کے بھمّا گاؤں کے کسان لوکیندر گوجر کا کہنا ہے کہ آج صبح جب انھوں نے اپنے موبائل پر یہ خبر دیکھی تو انھیں یقین نہیں ہوا۔ کیونکہ بی جے پی کی اس حکومت کی شبیہ ضدی والی بنی ہوئی ہے۔ وہ کسانوں پر کئی طرح کے شرمناک الزامات لگاتے رہے ہیں۔ اب جب انھوں نے زرعی قوانین کو واپس لینے کی بات کی ہے، تو یہ بات اتنی سیدھی لگ نہیں رہی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کے بعد ہم کسان لیڈر راکیش ٹکیت کے رد عمل کا انتظار کر رہے تھے۔ راکیش ٹکیت ایک سمجھدار لیڈر ہیں، انھوں نے بہت صحیح فیصلہ لیا ہے۔ حکومت کے ساتھ مضبوط لکھا پڑھی ہونی چاہیے۔ لیڈروں کی زبان کا کیا، وہ تو جملہ بھی ہو سکتا ہے۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف

اسی گاؤں کے رویش چودھری نے بتایا کہ کسان بہت صبر کرنے والی قوم ہے۔ کوئی بھی حکومت ہمارے صبر کا امتحان نہیں لے سکتی۔ ہمارا صبر بے مثال ہے۔ ہم فصل کی بوائی کرتے ہیں اور بے حد صبر کے ساتھ اس کا انتظار کرتے ہیں۔ ہم کچی فصل نہیں کاٹتے ہیں۔ فصل کو پوری طرح پکنے دیتے ہیں۔ وزیر اعظم کے ذریعہ قانون واپس لینے کا ابھی زبانی بیان آیا ہے۔ قانون کو ایوان میں رد ہونے کے راکیش ٹکیت جی کی بات بہت اہم ہے۔ ہم تھوڑا انتظار کریں گے، لیکن فصل کچی نہیں کاٹیں گے۔

کھیڑی سرائے گاؤں کے بنٹی کا کہنا ہے کہ پہلے تو مودی جی کسانوں سے بات چیت بھی نہیں کر رہے تھے، آج اچانک انھوں نے زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ میں کھیت میں کام کر رہا تھا اور مجھے یکبارگی یقین ہی نہیں ہوا۔ سب کچھ جو نظر آ رہا ہے اتنا آسان لگ نہیں رہا۔ کسانوں کو بہت برا بھلا کہا گیا ہے۔ ان پر طرح طرح کے الزامات لگے ہیں۔ ان پر گاڑیاں تک چڑھا دی گئی ہیں۔ مودی حکومت کی شبیہ پیچھے ہٹنے کی نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا کر رہے ہیں تو ہمارے لیڈر قریب سے سمجھ رہے ہوں گے۔ امید ہے کہ ہمارے لیڈر جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں لیں گے۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف

کسانوں کی راجدھانی کہی جانے والی سسولی میں بھی زرعی قوانین کو واپس لینے پر اچھا ماحول دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں چودھری نریندر بالیان نے بتایا کہ کسانوں کو یہ کامیابی ملی بہت محنت سے ملی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ کسان ذات اور مذہب کی بنیاد پر نہیں بنٹا اور پوری طرح کسان رہا۔ کسان کے نام پر متحد رہنے کی وجہ سے تمام سازشیں ناکام ہو گئیں۔ اب کسانوں نے پہلا مورچہ جیت لیا ہے لیکن وہ پوری لڑائی جیت کر ہی واپس آئیں گے۔ قوانین کا پارلیمنٹ میں رد ہونا ہی بڑی جیت ہوگی۔

بڈھانا کے کسان پرمود چودھری نے اس فیصلے کو پوری طرح سے سیاست سے متاثر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخاب کے مدنظر حکومت دباؤ میں ہے۔ حال کے ضمنی انتخاب میں ملی شکست اور کئی ریاستوں میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں شکست کی آہٹ کے سبب بی جے پی والوں کے پنکھ اکھڑ گئے ہیں۔ بی جے پی حکومت کو کسانوں کی ناراضگی کا خوف ہے۔ کسان یہ اچھی طرح سمجھ رہا ہے۔ ہمارے لیڈر بھی یہ سمجھ چکے ہیں۔ یہ بیان انتخابی جملہ نہیں ہونا چاہیے۔ کسانوں سے قاعدے سے بات چیت ہونی چاہیے۔ گزشتہ کچھ وقت سے کسانوں کی بہت بے عزتی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم کو پہلے ان سبھی باتوں کے لیے کسانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔


پرکاجی کے ظہیر فاروقی کا کہنا ہے کہ حکومت انتخاب کے بعد ترمیم کے نام پر قانون کو پھر سے لا سکتی ہے۔ اس وقت انتخاب کے سبب بی جے پی حکومت پنجاب اور اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں زبردست نقصان کے اندیشہ سے خوفزدہ ہے۔ لیکن کسانوں نے طویل جدوجہد کیا ہے اور وہ مزید جدوجہد کرنے کا مادہ رکھتے ہیں۔ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، لیکن کسانوں نے حکومت کی انا کو توڑ دیا ہے۔ امید ہے اب کچھ لوگوں کو گولا لاٹھی کا مطلب بھی سمجھ میں آ گیا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔