زرعی قوانین واپس لینے کا فیصلہ بی جے پی کے لیے الٹا پڑ سکتا ہے، ویڈیو دیکھیں

وزیر اعظم نے تینوں زرعی قوانین (جن کو مظاہرہ کر رہے کسان کالے قوانین بھی کہتے ہیں) کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے لیکن کہیں نہ کہیں اس فیصلہ پر انتخابی تقاضوں کا تڑکا صاف نظر آ رہا ہے۔

user

سید خرم رضا

وزیر اعظم نریندر مودی نے آخر اعلان کر دیا کہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین سرکار واپس لے گی اور اس تعلق سے آئینی ضوابط اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پورے کر لیے جائیں گے۔ کسانوں میں جہاں اس اعلان میں اپنے موقف کی جیت نظر آ رہی ہے وہیں وہ یہ سوچنے پر بھی مجبور ہے کہ حکومت نے اتنا وقت کیوں لیا۔ اس دوران جہاں مظاہرہ کر رہے کسانوں کو نہ صرف ہر موسم کی شدتیں برداشت کرنی پڑیں، وہیں اس نے سینکڑوں ساتھی کسانوں کو ان مظاہروں میں ہمیشہ کے لئے کھو دیا۔

اتر پردیش اور دہلی کی غازی پور سرحد پر آج ماحول بالکل تبدیل نظر آیا۔ یہاں پر کسانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ لیکن جو کسان وہاں موجود تھے ان کے چہرے پر کامیابی کی خوشی صاف نظر آ رہی تھی۔ کہیں پر کسان آتش بازی کرتے نظر آ رہے تھے، تو کہیں پر گرم گرم جلیبی تقسیم ہو رہی تھیں۔ الگ الگ گروپ میں بیٹھے کسان جہاں حکومت کے اس فیصلہ کا استقبال کر رہے تھے وہیں دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی کہہ رہے تھے کہ یہ تو حکومت نے جو تحفہ (گفٹ) ہمیں دیا تھا اور ہم نے لینے سے انکار کر دیا تھا، اس تحفہ کو واپس لیا ہے۔ لیکن کسانوں کو جو دینا تھا وہ تو کچھ بھی نہیں دیا۔ جس میں ان کا اہم مطالبہ ایم ایس پی کو طے کرنا تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص طے شدہ ایم ایس پی سے کم پیسوں پر خریداری کرے تو اس کو جیل کی سزا ہونی چاہئے۔


غازی پور سرحد پر موجود کسانوں میں یہ تاثر عام تھا کہ حکومت نے ایک سال بعد یہ فیصلہ صرف اور صرف انتخابی تقاضوں کی وجہ سے لیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پنجاب اور اتر پردیش میں بی جے پی کی مقبولیت میں جو زبردست کمی آئی ہے، اور ان کے جلسوں میں کم لوگوں کی شرکت دیکھی گئی ہے، اس فیصلہ کی بڑی وجہ ہے۔ انہیں حکومت پر یقین نہیں ہے، اس لئے وہ جہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک پارلیمنٹ سے ان قوانین کو باقائدہ ختم نہیں کیا جاتا تب تک ان کا احتجاج جاری رہے گا، ساتھ میں وہ حکومت سے ایم ایس پی، جن کسانوں کی ان مظاہروں کے دوران موت ہوئی انہیں شہادت کر درجہ، ان کے اہل خانہ کو معقول معاوضہ، کسانوں کے خلاف مقدمات واپس لینے اور مرکزی وزیر مملکت جن کے بیٹے پر کسانوں کو اپنی گاڑی سے کچلنے کا الزام ہے ان کی کابینہ سے برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے تینوں زرعی قوانین، جن کو مظاہرہ کر رہے کسان کالے قوانین بھی کہتے ہیں، ان کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے لیکن کہیں نہ کہیں اس فیصلہ پر انتخابی تقاضوں کا تڑکا صاف نظر آ رہا ہے اور اعلان میں خلوص نظر نہیں آ رہا۔ اس اعلان سے بہت ممکن ہے کہ بی جے پی کو مزید انتخابی نقصان ہو جائے کیونکہ اب لوگوں میں طرح طرح کے سوال پیدا ہوں گے اور جن لوگوں نے حکومت کے اس فیصلہ کی حمایت کی تھی وہ بھی سوچیں گے اب لوگوں سے کیا کہیں گے۔ یہ تاثر عام ہے کہ اس فیصلہ کے پیچھے انتخابی تقاضہ ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔