زرعی قوانین کی واپسی پر لالو یادو نے کسانوں کو دی مبارکباد، تیجسوی کا بھی رد عمل آیا سامنے

پی ایم مودی نے تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے، اس پر آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد نے کسانوں کو مبارکباد پیش کی ہے، تیجسوی نے اسے کسانوں کی فتح اور تکبر کی شکست بتایا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز یعنی 19 نومبر کو تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد نے کسانوں کو مبارکباد پیش کی۔ لالو پرساد کے بیٹے اور بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے بھی تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے اعلان کو کسانوں کی جیت اور تکبر کی شکست ٹھہرایا ہے۔

سابق مرکزی وزیر لالو پرساد نے تین زرعی قوانین کی واپسی کا اعلان کرنے کے بعد دنیا کے سب سے طویل، پرامن اور جمہوری کسان تحریک کے کامیاب ہونے پر مبارکباد دی۔ انھوں نے اپنے دلچسپ انداز میں سوشل میڈیا پر لکھا ’’ملک صبر، منکسرالمزاجی اور سالمیت کے ساتھ ساتھ دانشمند، جمہوری اور مثبت فیصلوں سے چلتا ہے، نہ کہ پہلوانی سے۔ اکثریت میں تکبر نہیں بلکہ عاجزی ہونی چاہیے۔‘‘


دوسری طرف بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ کسان کی جیت ہے، ملک کی جیت ہے۔ یہ سرمایہ داروں، ان کے رکھوالوں، نتیش-بی جے پی حکومت اور ان کے تکبر کی شکست ہے۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’دنیا کے سب سے پرامن اور جمہوری کسان تحریک نے پونجی پرست حکومت کو جھکنے کے لیے مجبور کیا۔ آندولن جیویوں نے دکھایا کہ اتحاد میں طاقت ہے۔ یہ سبھی کی اجتماعی جیت ہے۔ بہار اور ملک میں موجود بے روزگاری، مہنگائی، نجکاری کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔‘‘

تیجسوی یادو نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بی جے پی ضمنی انتخابات ہاری تو اسے پٹرول-ڈیزل پر نمائشی ہی سہی لیکن تھوڑا سا ٹیکس کم کرنا پڑا۔ اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب کی شکست کے خوف سے تینوں زرعی قوانین واپس لینے پڑ رہے ہیں۔ گزشتہ سال 26 نومبر سے کسان تحریک چلا رہے تھے۔ بہار اسمبلی انتخاب کے ریزلٹ کے فوراً بعد کسان کے مفاد میں ہم کسانوں کی حمایت میں سڑکوں پر تھے۔ بالآخر سچائی اور کسانوں کی جیت ہوئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔