زرعی قوانین کی واپسی کے بعد راکیش ٹکیت کا بیان ’کسانوں کا احتجاج فوری طور پر واپس نہیں ہوگا‘

وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج ختم کر کے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں، انہوں نے کہا کہ کسان اپنے کھیتوں میں لوٹیں، اپنے اہل خانہ کے پاس لوٹیں

راکیش ٹکیٹ، تصویر یو این آئی
راکیش ٹکیٹ، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پرکاش پرو کے موقع پر قوم کے نام اپنے خطاب کے دوران تینوں متنازعہ زرعی قوانین کی واپسی کا اعلان کر کے ہر کسی کو حیران کر دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی تحریک ختم کر کے گھروں کو واپس لوٹ جائیں، تاہم کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کسانوں کی تحریک فوری واپس نہیں ہوگی۔

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے جمعہ کو ٹوئٹ کیا ’’احتجاج فوری طور پر واپس نہیں لیا جائے گا، ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ حکومت ایم ایس پی کے ساتھ ساتھ کسانوں کے دیگر مسائل پر بھی بات کرے‘‘۔


قبل ازیں راکیش ٹکیت نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا، ’’کسان بارود کے ڈھیر کپر بیٹھے ہیں۔ تحریک سے ہی زندہ رہیں گے۔ یہ ذمہ داری سب کو نبھانی ہوگی۔ زمین سے دلچسپی ختم کرنا حکومت کی سازش ہے۔ زمین کم ہو رہی ہے۔ کسان سے زمین فروخت کرنے اور خریدنے کا حق بھی یہ لوگ چھین لیں گے۔ ذات اور مذہب کو بھول کر کسانوں کو ایک ہونا ہوگا۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے اپنے خطاب کے دوران زراعت کے تینوں متنازعہ قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی کہا کہ اس کے لیے 29 نومبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں عمل شروع کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔