ڈبل انجن کی حکومت نے ترقیاتی کام تو کیے نہیں لیکن نئے نئے وزیر اعلیٰ ضرور دے دیئے: ہریش راوت

کانگریس کے سینئر رہنما ہریش راوت نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نےعوام کا تو کوئی مسئلہ حل نہیں کیا اور ساتھ میں کمبھ جیسے پاک موقع پر کورونا جانچ میں بدعنوانی کا داغ اور لگا دیا۔

اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ہریش راوت / آئی اے این ایس
اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ہریش راوت / آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

اترا کھنڈ میں آج ایک اور نئے وزیر اعلی کا اعلان ہو جائے گا اور اس اسمبلی میں سال 2017 کے انتخابات کے بعد یہ تیسرے وزیر اعلی ہوں گے، کیونکہ چار مہینے پہلے تریوندر سنگھ راوت (ٹی ایس آر 1) کی جگہ تیرتھ سنگھ راوت (ٹی ایس آر 2) کو جو وزیر اعلی بنایا گیا تھا انہوں نے کل دیر رات استعفی دے دیا ہے۔ اترا کھنڈ بی جے پی قانون ساز پارٹی کے ارکان کے ہونے والے اجلاس میں نیا وزیر اعلی منتخب کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اب منتخب ہونے والے نئے وزیر اعلیٰ کا رکن اسمبلی ہونا لازمی ہوگا۔

اتراکھنڈ کی اس صورتحال پر کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے لئے غیر مستحکم حکومتیں دینا اور وزیر اعلی بدلنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل اترا کھنڈ میں ہی نتیانند، کوشیاری، کھنڈوری اور نشانک کو ایک ہی مدت کار میں وزیر اعلی بنایا تھا اور اب اس مدت کار میں بھی یہ تیسرا وزیر اعلی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں جب بی جے پی کی حکومت تھی تو اس وقت مدن لال کھورانہ، صاحب سنگھ ورما اور پھر سشما سواراج کو وزیر اعلی بنایا تھا، کرناٹک میں ایسے ہی وزیر اعلی بدلے گئے ہیں اور مدھیہ پردیش میں اوما بھارتی، گوڑ اور شیو راج سنگھ چوہان کو وزیر اعلی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لئے ریاست کےعوام کے ساتھ یہ کھلواڑ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔


اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر رہنما ہریش راوت نے تیز بخار میں فون پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر علی کا بدلا جانا ریاست کے عوام کی بےعزتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نےعوام کا تو کوئی مسئلہ حل نہیں کیا اور ساتھ میں کمبھ جیسے پاک موقع پر کورونا جانچ میں بدعنوانی کا داغ اور لگا دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اتراکھنڈ کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ریاست کی ترقی کے لئے ڈبل انجن کی حکومت منتخب کریں، لیکن اس ڈبل انجن کی حکومت نے عوام کو نئے نئے وزیر اعلی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔

اتراکھنڈ ریاست کے اے آئی سی سی انچارج دیوندر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی میں قانون کے اتنے ماہر لوگ موجود ہیں کیا ان کو یہ علم نہیں تھا کہ جس ریاست میں ایک سال کے اندر اسمبلی انتخابات ہونے والے ہوں وہاں ضمنی انتخابات نہیں کرائے جاتے اور تیرتھ سنگھ راوت کے لئے اسمبلی میں چھ ماہ کے اندر اسمبلی کے لئے منتخب ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بے روزگاری کی شرح میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور خواتین کی عزت محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اترا کھنڈ میں یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ ’بی جے پی کے رہنماؤں سے بیٹی بچاؤ‘ اور اس سے وہاں کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


اتراکھنڈ کے سینئر لیڈر پریتم نے کہا کہ کورونا بحران میں جو کچھ دیکھنے کو ملا اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اترا کھنڈ کی حکومت ایک ہتھیاری حکومت ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ کرن ماہرا نے کہا کہ بی جے پی اترا کھنڈ میں جو کچھ کر رہی ہے وہ ریاست کے عوام کے ساتھ کھلواڑ ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سا نیا گھوٹالہ باز وزیر اعلی آتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔