’ڈبل انجن حکومت‘ نے اتراکھنڈ کے باشندوں کو اللہ بھروسے چھوڑ دیا... نوین جوشی

2020 کی نیتی آیوگ رپورٹ ’ہیلدی اسٹیٹس پروگریسیو انڈیا‘ میں ہیلتھ انڈیکس میں اتراکھنڈ 21 ریاستوں کی فہرست میں 17ویں مقام پر تھا، 19-2018 میں یہاں بچوں کی شرح اموات فی ہزار 38 تھی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

دہرادون: اتراکھنڈ کے الموڑا ضلع کے پاتل چورا گاؤں میں 21 سال کی پرینکا کو 5 جنوری کو دردِ زہ شروع ہوا۔ گھر والے اور متعلقین اسے ڈولی میں لے کر پرائمری ہیلتھ سنٹر کے لیے نکلے جو گاؤں سے 18 کلومیٹر دور دھول چھینا میں ہے۔ راستے یں پرینکا کی تکلیف اتنی بڑھی کہ ایک کھیت میں زچگی کرانی پڑی۔ آس پاس کی خواتین مدد کے لیے آئیں۔ کمبل بچھا کر چادروں اور دھوتیوں سے پردہ کیا گیا۔ بارش ہو رہی تھی، اس لیے چھاتے تانے گئے۔ ٹارچ کی روشنی میں پرینکا نے کھیت میں بچے کو جنم دیا۔ زچہ اور بچہ دونوں بچ گئے۔ گھر والے انھیں لے کر گاؤں لوٹ گئے۔ پرینکا اور اس کی فیملی خوش قسمت ہیں کہ ان کے گھر میں شکوناکھر (خوشی کے گیت) گائے جا رہے ہیں۔ کئی گھر اتنے خوش قسمت نہیں ہوتے۔ اکثر زچہ اور بچہ دونوں یا کسی ایک کی موت کی خبر آتی ہے۔

چمولی ضلع کے پینکھولی گاؤں میں 25 سال کی سنیتا نے گھر میں ہی بچی کو جنم دیا۔ دردِ زہ کے کچھ دیر بعد ہی اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ گاؤں سے سڑک تین کلومیٹر اور نزدیکی اسپتال 25 کلومیٹر دور ہے۔ گاؤں والے زچہ بچہ کو لے کر اسپتال کے لیے دوڑے۔ سڑک پر بھی نہیں پہنچے تھے کہ ماں اور نوزائیدہ دونوں کی موت ہو گئی۔


اتراکھنڈ کے دوردراز گاؤں میں گھر، کھیت یا جنگل یا چلتی بس میں بچہ جنم لینے کے قصے بہت عام ہیں اور دردناک خبریں آتی رہتی ہیں۔ پرائمری ہیلتھ سنٹر میلوں دور ہیں۔ جو گاؤں سڑک کے کنارے ہیں یا ہیلتھ سنٹرس کے قریب، وہاں بھی ڈاکٹر یا علاج ملے گا، یہ غیر یقینی ہی رہتا ہے۔ سنہ 2020 کی نیتی آیوگ کی رپورٹ ’ہیلدی اسٹیٹس پروگریسیو انڈیا‘ میں ہیلتھ انڈیکس میں اتراکھنڈ 21 ریاستوں کی فہرست میں 17ویں نمبر پر تھا۔ 19-2018 میں یہاں بچوں کی شرح اموات فی ہزار 38 تھی۔ 16-2015 میں یہ 32 تھی اور اس سے پہلے 28۔ یہ ملک کے اوسط سے بہت زیادہ ہے۔ اتراکھنڈ واحد ریاست ہے جہاں نوزائیدہ کی شرح اموات بڑھ رہی ہے۔

اتراکھنڈ آئندہ 14 فروری کو اپنی نئی حکومت چننے کے لیے ووٹنگ کرے گا، لیکن عام طبی خدمات کی بھی عدم دستیابی اور اس کو نظر انداز کرنا اقتدار کی دعویدار کسی سیاسی پارٹی اور عوام کا بھی انتخابی ایشو نہیں ہے۔ یہاں وزیر اعظم نریندر مودی کا تذکرہ ہے کہ کیسے انھوں نے کیدارناتھ دھام کا نقشہ بدل دیا، کہ کس طرح وہ تیرتھوں کو جوڑنے کے لیے ’آل ویدر چار دھام روڈ‘ بنوا رہے ہیں، کہ اربوں کھربوں کے پروجیکٹس اتراکھنڈ کی ترقی کے لیے اعلان کیے گئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس سمیت حزب مخالف مذاق اڑا رہے ہیں کہ جس پارٹی کو تین مہینے میں تین وزرائے اعلیٰ بدلنے پڑے، وہ ریاست کی کیا ترقی کرے گی، کہ ہجرت سے گاؤں خالی ہو رہے ہیں، کہ بے رزگاری ریکارڈ توڑ رہی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ترقی کے سرکاری دعووں اور ان کی قلعی کھولنے کی اپوزیشن کی کوششوں میں طبی خدمات کی بدحالی کا ایشو اہم نہیں ہے۔ جو مقامی چھوٹی پارٹیاں اس کا تذکرہ کر رہی ہیں، ان کی دھیمی آواز نقارخانہ میں طوطی کی آواز کی طرح سنائی نہیں دے رہی۔ ابھی مارچ میں سی اے جی کی طبی خدمات سے متعلق جو رپورٹ اسمبلی میں رکھی گئی، اس سے ہی ثابت ہو جاتا ہے کہ یہاں ’ڈبل انجن کی حکومت‘ نے عوام کی صحت اللہ بھروسے چھوڑ رکھی ہے۔


رپورٹ نے بتایا تھا کہ مرکزی حکومت نے عوامی طبی خدمات کے لیے جو پیمانے طے کیے ہیں، ریاست میں وہ بھی نافذ نہیں ہیں۔ عمارت، ڈاکٹر، پیرامیڈیکل اسٹاف سبھی کی بڑی کمی ہے۔ سی اے جی ٹیم نے 20-2019 میں ضلع ہاسپیٹل میں ماہر ڈاکٹرس، ڈائگناسٹک سہولیات، او پی ڈی، حمل خدمات، ریڈیولوجی، ایمرجنسی خدمات وغیرہ کی جانچ کی تھی۔ جب ان تنظیمی خدمات کا حال ہی بے حال ہے تو پرائمری ہیلتھ سنٹرس کا کیا حال ہوگا اور دوردراز گاؤں کے عوام کی طبی ضرورتوں کی طرف کون دیکھتا ہوگا؟ سانپ کے کاٹے کے علاج یا چوٹ لگ جانے پر ٹانکے لگوانے کے لیے بھی عوام کو دس سے پچیس تیس کلومیٹر تک جانا پڑتا ہے۔ جبکہ اتراکھنڈ ریاست کو بنے 21 سال ہو گئے ہیں۔

چند شہروں-قصبوں کو چھوڑ دیں تو ریاست کے حصے اجڑنا ہی آیا ہے۔ سینکڑوں گاؤں بھوتیا یعنی مخدوش ہو گئے ہیں۔ سینکڑوں گاؤں ایسے ہیں جہاں چند کنبے بچے ہیں، کہیں تو دو چار لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ گاؤں سے ہجرت کی ایک بڑی وجہ طبی خدمات کا بحران ہے۔ روزی روٹی کے لیے ہونے والی غیر مستقل رہائش مستقل ہجرت میں اسی لیے بدلتی جا رہی ہے۔ رہائش کے باوجود جو کنبہ اپنے گاؤں آتا ہے یا باہری لوگ جو یہاں صاف ستھری ہوا کے لیے زمینیں خرید کر آشیانے بنا رہے ہیں، وہ بھی اس بات سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ عام علاج بھی دستیاب نہیں ہے۔


ریاست کے اراضی قوانین کو بڑے صنعتی گھرانوں اور اراضی مافیا کے مفاد میں زیادہ لچکدار بنا کر بی جے پی حکومت نے اتراکھنڈ کے دیہی عوام کے مفادات پر زبردست حملہ کیا ہے۔ آج کوئی بھی شخص یا گروپ ریاست میں کہیں بھی کتنی بھی زمین خرید سکتا ہے۔ زمینوں کی اس کھلی لوٹ سے بھی ریاست سے ہجرت بڑھی ہے۔ بی جے پی حکومت نے ’ریورس ہجرت‘ کا نعرہ دے کر لوگوں سے اپنے گاؤں کو لوٹ آنے کی اپیل کی ہے لیکن وہ کیوں لوٹیں جب کہ ان کے لیے یہاں زندگی کی ضروری سہولیات بھی دستیاب نہیں۔ یہ انتخاب کا ایشو کیوں نہیں بنتا؟

(نوجیون ہندی کے لیے نوین جوشی کی تحریر کا اردو ترجمہ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔