جموں و کشمیر میں سال 2019 سے جاری مظالم کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جاری مظالم کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے، یہاں جو کچھ ہوا بدقسمتی سے اس سے چشم پوشی کی گئی اب اسی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، ہم کب زبان کھولیں گے۔

محبوبہ مفتی، تصویر آئی اے این ایس
محبوبہ مفتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ جموں و کشمیر میں سال 2019 سے جاری مظالم کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنے لوگوں کے خلاف سختی سے پیش آتی ہے جبکہ چینی فوج کا والہانہ خیر مقدم کرتی ہے۔ موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’جموں وکشمیر میں سال 2019 سے جاری مظالم کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے جموں وکشمیر میں جو کچھ ہوا بدقسمتی سے اس سے چشم پوشی کی گئی اب اسی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہم کب زبان کھولیں گے‘۔


موصوفہ ے اپنے دوسرے ٹوئٹ میں کہا کہ ’جہاں بھی حقوق اور وقار کو پاؤں تلے روندا جاتا ہے وہاں دفعہ 144 نافذ کرنا حکومت ہند کا ترجیحی اپروچ ہے۔ حکومت اپنے ملک کے لوگوں کے خلاف آہنی مٹھی استعمال کرنے سے کوئی دریغ نہیں کرتی ہے جبکہ چینی فوج کا والہا نہ استقبال کیا جاتا ہے‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔